طارق رحمان بنگلہ دیش کے نئے وزیرِاعظم بننے کے قریب ہیں، کیونکہ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی یعنی بی این پی عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
60 سالہ طارق رحمان سابق بنگلہ دیشی صدرضیاالرحمان کے خاندان کے با اثر رکن ہیں، جنہوں نے دہائیوں سے ملک کی سیاست پر اثرورسوخ رکھا ہے، ان کے والدین دونوں پہلے ہی بنگلہ دیش کے قائد رہ چکے ہیں۔
تاہم طارق رحمان کے لیے اعلیٰ عہدے تک پہنچنا آسان نہیں رہا، ان کی سیاسی زندگی مخالفین کی جانب سے خاندان پر نوازش پسندی اور بدعنوانی کے الزامات، جلاوطنی کا عرصہ، اور ان کے والد کے قتل سے متاثر رہی ہے۔
Tariq Rahman – the new prime minister of Bangladesh pic.twitter.com/TFkqNCwWOY
— Alisha Rahaman Sarkar (@zohrabai) February 13, 2026
بی این پی کے چیئرمین بننے کا ان کا آخری سفر چند ہفتے قبل مکمل ہوا، جب بنگلہ دیش انتخابات کی طرف بڑھ رہا تھا اور ان کی والدہ ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم خالدہ ضیا کا انتقال ہو گیا۔
طارق رحمان نے 2001 میں بی این پی میں سیاسی سرگرمی شروع کی، جب وہ اپنی عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں تھے، یہ ان کی والدہ کے دوسرے دورِ وزارتِ عظمیٰ کی ابتدا تھی، ان کی والدہ کا پہلا دور 1991 سے 1996 تک جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت ڈھاکہ کا انتخابی معرکہ، کس جماعت کا پلڑا بھاری رہا؟
فوجی حکمران سے صدر بننے والے ان کے والد ضیا الرحمان 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں قتل ہو گئے تھے، وہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں ایک اہم شخصیت تھے جنہوں نے 1978 میں بی این پی کی بنیاد رکھی۔
2002 میں طارق رحمان نے اپنے والدین کے نقش قدم پر پہلا بڑا قدم اٹھایا جب پارٹی میں انہیں ایک اعلیٰ عہدے پر ترقی دی گئی۔ اس وقت اپوزیشن نے ان کی ترقی کو کھلی نوازش پسندی قرار دیا۔

تاہم بعد میں طارق رحمان ’پارٹی ڈسپلن قائم کرنے والے سخت کردار‘ کے طور پر جانے گئے۔
ماضی میں رحمان پر اپنے عہدے کا ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں، لیکن انہوں نے بدعنوانی کے تمام الزامات ہمیشہ مسترد کیے۔ ان کے کچھ حامیوں کا ماننا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی سیاسی قربانی بنے۔
مزید پڑھیں: تاریخی انتخابی مرحلہ مکمل، بنگلہ دیش میں بی این پی دو تہائی اکثریت کے قریب
2007 میں ایک فوجی پشت پناہی والے عبوری حکومت کے دوران انہیں بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور انہوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ 18 ماہ تک جیل میں رہے، بعد ازاں رہائی کے بعد لندن چلے گئے۔
رپورٹس کے مطابق، انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت کے لیے سیاست سے دور رہنے کا وعدہ کرنا پڑا، رحمان اگلے 17 سال تک اپنے وطن واپس نہیں آئے۔

حالانکہ بیرون ملک مقیم، طارق رحمان نے بی این پی کی پالیسیوں اور حکمت عملی پر اثر انداز ہوتے رہے اور اپنی والدہ کی 2018 میں جیل جانے کے بعد پارٹی کے قائم مقام چیئرمین بھی رہے۔
ان پر بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم کی حکومت کے دوران مختلف تحقیقات بھی ہوئیں اور کئی مقدمات میں غیر حاضری میں سزا سنائی گئی، جن میں 2004 کے ایک سیاسی جلسے پر ہونے والے مہلک گرینیڈ حملے میں ان کے کردار کے الزامات بھی شامل تھے، بعد میں تمام الزامات سے انہیں بری کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے
طارق رحمان آخرکار گزشتہ برس 25 دسمبر کو بنگلہ دیش واپس آ گئے لیکن 5 دن بعد ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا، 9 جنوری کو انہوں نے باضابطہ طور پر بی این پی کی قیادت سنبھالی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی کی قیادت تک ان کا سفر ناگزیر تھا۔
ایک بار پھر خاندان پر نوازش پسندی کے الزامات سامنے آئے، جنہیں سابق وزیر تجارت امیر خسرو نے مسترد کردیا۔

’چاہے آپ خاندان سے ہوں یا نہ ہوں، یہ اہمیت نہیں رکھتا، حسینہ حکومت کی سختی کی وجہ سے بی این پی اپنی قیادت خود منتخب کرنے کے قابل نہیں تھی، اس لیے ضیا خاندان کی قیادت ہی ممکن تھی۔‘
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ طارق رحمان پارٹی اور ملک کی قیادت کیسے کریں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: این سی پی کا بھی نتائج میں رد و بدل کا الزام، الیکشن کمیشن سے نظرثانی کا مطالبہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انہوں نے سیاست کے تاریک گوشوں کو دیکھا ہے اور ملک میں جھگڑوں اور انتقام کی سیاست کا تجربہ کیا ہے۔
تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اس سیاسی حکمت کو استعمال کر کے پارٹی رہنما سے قومی رہنما بننے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔














