بی این پی کی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں واضح اکثریت، حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی

جمعہ 13 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کے 13ویں جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے واضح برتری حاصل کرتے ہوئے فیصلہ کن کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں موجود جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی۔

الیکشن حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 297 نشستوں پر ہونے والے مقابلے میں بی این پی نے 209 نشستیں جیت کر سادہ اکثریت حاصل کرلی ہے، جو حکومت سازی کے لیے درکار حد سے کہیں زیادہ ہے۔

تازہ تفصیلات کے مطابق بی این پی نے 209 نشستیں حاصل کیں جبکہ جماعتِ اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی اور خلافت مجلس نے 2 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ دیگر جماعتوں نے مجموعی طور پر 5 نشستیں حاصل کیں اور 7 آزاد امیدوار بھی کامیاب قرار پائے۔

مزید پڑھیں:  بنگلہ دیش کو 35 سال بعد مرد وزیراعظم ملنے کا امکان

حکام کے مطابق 2 حلقوں کے نتائج ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت معاملات کے باعث جاری نہیں کیے گئے۔ متعلقہ عدالتی ہدایات کی روشنی میں ان نشستوں کا اعلان مؤخر کیا گیا ہے۔

واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے بعد بی این پی آئندہ حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں آچکی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد مزید باضابطہ اعلانات جاری کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش نے اعلان کیا ہے کہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور آئینی ریفرنڈم میں ووٹر ٹرن آؤٹ 59.44 فیصد رہا۔

الیکشن اور ریفرنڈم گزشتہ روز منعقد ہوئے تھے۔ آج صبح نتائج کے اعلان کی تکمیل کے بعد الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز روح الامین ملک نے تقریباً ساڑھے 11 بجے صحافیوں کو بتایا کہ ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی شرح 59.44 فیصد رہی۔

299 نشستوں کے لیے ووٹنگ، عوام کا پُرامن اظہارِ رائے

ملک بھر کے پولنگ اسٹیشنز پر ہزاروں مرد و خواتین نے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالا۔ کچھ افراد بیساکھیوں یا وہیل چیئر پر بھی پولنگ مراکز پہنچے۔ ووٹرز نے بغیر کسی خوف کے 300 میں سے 299 پارلیمانی نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔

خواتین کی نمایاں شرکت

خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنز پر دیکھی گئی۔ کئی خواتین گروپوں کی صورت میں ووٹ ڈالنے آئیں، جو مختلف عمر کے افراد اور دونوں جنسوں کی وسیع شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: کتنی خواتین کو کامیابی ملی؟

تاریخ میں پہلی بار بیک وقت 2 ووٹ

نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ووٹرز نے آئینی اصلاحات سے متعلق ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک ہی دن پارلیمانی انتخاب اور ریفرنڈم ایک ساتھ منعقد کیے گئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخاب برسوں کی سیاسی کشمکش کے بعد ملک کے جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

جماعتِ اسلامی کا انتخابی نتائج کی شفافیت پر اعتراض

دوسری جانب بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے قومی انتخابات کے نتائج کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ انتخابی نتائج کے گرد عمل سے مطمیئن نہیں ‘۔

پارٹی کے بیان میں کہا گیا کہ 11 جماعتی اتحاد کے امیدوار مختلف حلقوں میں معمولی اور مشکوک فرق سے ہارے۔ جماعت کے مطابق غیر سرکاری نتائج کے اعلانات میں بار بار تضادات اور مبینہ من گھڑت اعداد و شمار سامنے آئے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش کی جانب سے ووٹر ٹرن آؤٹ کی شرح جاری نہ کرنے سے بھی شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ کے ایک حصے نے مبینہ طور پر ایک بڑی سیاسی جماعت کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ کیا، جس سے نتائج کے عمل کی دیانتداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

جماعتِ اسلامی نے اپنے کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور 11 جماعتی اتحاد کے آئندہ لائحہ عمل کا انتظار کریں۔ پارٹی نے کہا کہ اتحاد کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری پروگرام کے مطابق آئندہ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان کون ہیں؟

60  سالہ طارق رحمان سابق بنگلہ دیشی صدرضیاالرحمان کے خاندان کے با اثر رکن ہیں، جنہوں نے دہائیوں سے ملک کی سیاست پر اثرورسوخ رکھا ہے، ان کے والدین دونوں پہلے ہی بنگلہ دیش کے قائد رہ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دارالحکومت ڈھاکہ کا انتخابی معرکہ، کس جماعت کا پلڑا بھاری رہا؟

تاہم طارق رحمان کے لیے اعلیٰ عہدے تک پہنچنا آسان نہیں رہا، ان کی سیاسی زندگی مخالفین کی جانب سے خاندان پر نوازش پسندی اور بدعنوانی کے الزامات، جلاوطنی کا عرصہ، اور ان کے والد کے قتل سے متاثر رہی ہے۔

بی این پی کے چیئرمین بننے کا ان کا آخری سفر چند ہفتے قبل مکمل ہوا، جب بنگلہ دیش انتخابات کی طرف بڑھ رہا تھا اور ان کی والدہ ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم خالدہ ضیا کا انتقال ہو گیا۔

طارق رحمان نے 2001 میں بی این پی میں سیاسی سرگرمی شروع کی، جب وہ اپنی عمر کی تیسری دہائی کے وسط میں تھے، یہ ان کی والدہ کے دوسرے دورِ وزارتِ عظمیٰ کی ابتدا تھی، ان کی والدہ کا پہلا دور 1991 سے 1996 تک جاری رہا۔

فوجی حکمران سے صدر بننے والے ان کے والد ضیا الرحمان 1981 میں ایک فوجی بغاوت میں قتل ہو گئے تھے، وہ بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں ایک اہم شخصیت تھے جنہوں نے 1978 میں بی این پی کی بنیاد رکھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

ویڈیو

مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟

صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

کالم / تجزیہ

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے

جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی