کل کولمبو میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ سے قبل بھارت اور پاکستان کے درمیان پرانی بحث دوبارہ سر اٹھا گئی ہے کہ کیا کپتان میچ سے پہلے روایتی ہینڈشیک کریں گے یا نہیں۔
ابتدائی طور پر میچ کی شرکت بھی غیر یقینی تھی کیونکہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر میچ سے بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ سیاسی کشیدگی اور پشت پناہی مذاکرات کے بعد پاکستان نے آخرکار میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے ساتھ سب کچھ برابری کی سطح پر ہوگا، محسن نقوی کا ہینڈ شیک کے معاملے پر دوٹوک مؤقف
اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے ہینڈشیک کے معاملے پر ضمانت مانگی، لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے وضاحت کی کہ ایسے اشارے اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
یہ تنازعہ اس وقت مزید زور پکڑ گیا جب آئی سی سی نے زمبابوے اور عمان کے کھلاڑیوں کی ہینڈشیک تصویر جاری کی، جس پر صارفین نے بھارت اور پاکستان کو روایتی ہینڈشیک بحال کرنے کا مشورہ دیا۔
تنازعہ کیسے شروع ہوا؟
یہ مسئلہ 2025 کے ایشیا کپ سے شروع ہوا، جب بھارت اور پاکستان نے دبئی میں میچ کے بعد روایتی ہینڈشیک نہیں کیا۔ بھارتی ٹیم نے یہ فیصلہ 2025 کے اپریل میں پہلگام دہشت گردی کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی اور آپریشن سنڈور میں شامل فوجی افواج کی حمایت میں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اصل مسئلہ آئی سی سی اور بی سی سی آئی ہے‘، ہاکی میچ میں پاک بھارت کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے پر لوگوں کا خیر مقدم
اس کے بعد سے بھارت نے خواتین اور جونیئر مقابلوں سمیت تمام ٹورنامنٹس میں ہینڈشیک نہ کرنے کا رویہ اپنایا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے مطابق ہینڈشیک صرف روایت ہے، لازمی نہیں، اور یہی اصول بھارت کے پاکستان کے ساتھ تمام مقابلوں میں برقرار ہے۔













