وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ معاملہ شفاف اور قانونی دائرے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا بیٹیوں سے ٹیلیفونک رابطہ، 20منٹ تک بات چیت ہوئی،علیمہ خان نے تصدیق کر دی
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں سے فون پر بات کروائی گئی ہے، علیمہ خان نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے اپنے بیٹوں سے 20 منٹ بات کی۔
Pursuant to ongoing eye treatment of Imran Khan; further check up and treatment will be done in a specialised medical facility by best eye specialists. A detailed report thereof will also be submitted in the Supreme Court. Conjecture, speculations and efforts to turn this into…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 14, 2026
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے عمران خان کی فون پر بیٹوں قاسم اور سلمان سے بات کروانے کا حکم دیا تھا، اب ہم تصدیق کررہے ہیں کہ عمران خان سے بیٹوں کی فون پر بات کروا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز کا عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش، بہترین علاج کی فراہمی کا مطالبہ
علیمہ خان کے مطابق عمران خان تقریباً 20 منٹ تک اپنے بچوں سے بات کرسکے۔ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد والد کی آواز سن کر عمران خان بے حد خوش ہوئے۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عمران خان کی بینائی بحال ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
علیمہ خانم نے خبردار کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر پہلے ہی عمران خان کی بینائی کو نقصان پہنچا چکی ہے اور مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کی فوری دیکھ بھال ناگزیر ہے تاکہ مستقل بینائی کے نقصان سے بچا جاسکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کو ان کی صحت کے حق کے مطابق ہر ممکن طبی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔














