راجستھان پولیس کے ایک کانسٹیبل کو اپنی شادی کی تقریب میں مبینہ طور پر خطرناک اور مطلوب ملزمان کی شرکت پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد حکام نے فوری طور پر محکمانہ کارروائی عمل میں لائی۔
برطرف کیے جانے والے کانسٹیبل اشوک بشنوئی ضلع جھالاواڑ میں تعینات اسپیشل ٹیم کا حصہ تھے۔ ان کی شادی ناگور میں منعقد ہوئی جہاں راجستھان اور مدھیہ پردیش سے تعلق رکھنے والے متعدد مبینہ جرائم پیشہ افراد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بسم اللہ پڑھ کر رشوت لینے والا پولیس اہلکار گرفتار، نوکری سے برطرف
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد دلہے کے ہمراہ تصاویر بنوا رہے ہیں اور تقریب کے دوران نوٹ نچھاور کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق تقریب میں شریک افراد میں ایسے نام بھی شامل تھے جو مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب یا زیرِ تفتیش رہے ہیں جن میں منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔ بعض افراد کو متعلقہ اضلاع کی ’ٹاپ ٹین‘ فہرستوں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ضلع جھالاواڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد کانسٹیبل کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: برفباری سے مری کی سڑکیں بند، اسلام آباد پولیس کا سیاحوں کے لیے ٹریفک الرٹ جاری
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ ’وردی کے وقار اور محکمہ پولیس کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مذکورہ اہلکار اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان روابط کی نوعیت اور حد کیا تھی۔














