بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان منگل کو ملک کے نئے وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھائیں گے، جبکہ ان کی نئی کابینہ کے ارکان بھی اسی تقریب میں حلف لیں گے۔ دارالحکومت ڈھاکا میں سیاسی حلقوں میں کابینہ کے حجم اور اہم وزارتوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نئی کابینہ نسبتاً مختصر ہوگی، جس میں قریباً 35 سے 37 ارکان شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں سے 26 سے 27 کو مکمل وزارتیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ 9 سے 10 افراد وزیرِ مملکت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: طارق رحمان کی سیاسی سرگرمیاں تیز، این سی پی کنوینر ناہید اسلام سے ملاقات
پارٹی ذرائع کے مطابق آخری وقت میں ایک 2 ناموں کا اضافہ بھی ممکن ہے۔ یہ فیصلہ 2001 کی بی این پی حکومت کے تجربے کی روشنی میں کیا جا رہا ہے، جب قریباً 60 رکنی کابینہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تجربہ اور نوجوان قیادت کا امتزاج
پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان تجربہ کار قیادت اور نوجوان چہروں کے درمیان توازن قائم کرنا چاہتے ہیں، جس میں صلاحیت اور انتظامی مہارت کو ترجیح دی جائے گی۔
اہم وزارتوں کے لیے جن رہنماؤں کے نام زیر غور ہیں وہ ہیں مرزا فخرالاسلام عالمگیر، امیر خسرو محمود چوہدری، صلاح الدین احمد، حافظ الدین احمد، اور عثمان فاروق۔ اتحادی جماعتوں، ضلعی نمائندوں، نوجوان سیاستدانوں اور ٹیکنوکریٹس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
حکمرانی اور قومی یکجہتی
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی این پی کے انتخابی وعدوں کی تکمیل کا انحصار اہل اور بااعتماد شخصیات کے انتخاب پر ہوگا۔ طارق رحمان نے قومی مفاہمت اور سیاسی استحکام پر زور دیا ہے، اور کہا کہ قانون کے سامنے سب شہری برابر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع
انہوں نے جماعت اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، جسے مبصرین حکومت سازی سے قبل مفاہمتی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
معاشی اشارے
نئی حکومت کے ابتدائی معاشی اقدامات اہم ہوں گے، اور معاشی وزارتوں کے اہل اور معتبر افراد کے انتخاب سے داخلی اور بین الاقوامی اعتماد متاثر ہوگا۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ نئی کابینہ بی این پی کے وعدوں کے مطابق گڈ گورننس، انسدادِ بدعنوانی اور معاشی استحکام کو حقیقت میں کیسے لاگو کرتی ہے۔














