’آج میں غیر حاضر رہا۔ کل پورا دن حاجی کیمپ اڈے پر انتظار کرتا رہا، لیکن پی ٹی آئی کے دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد نہیں جا سکا۔ آج صبح سے دوبارہ اڈے میں بیٹھا ہوں۔‘ یہ کہنا ہے پشاور سے تعلق رکھنے والے اختر ایوب کا، جو اسلام آباد میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ ویک اینڈ پر گھر آئے تھے، مگر اب دھرنوں کی وجہ سے راستے بند ہونے کے باعث پھنس گئے ہیں۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں کو جانے والے مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
اختر ایوب کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث انہیں سخت پریشانی کا سامنا ہے۔ وہ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے جبکہ آئندہ بھی روڈ کھلنے کے حوالے سے کوئی واضح معلومات نہیں۔ ’میرا جانا بہت ضروری تھا۔ ایک اہم میٹنگ تھی۔ میری پریشانی کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔‘
مزید پڑھیں: آپ نے عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟ شیر افضل مروت محمود اچکزئی و دیگر پر برس پڑے
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت کے معاملے پر پارٹی قیادت نے گزشتہ جمعے سے اچانک دھرنوں کا اعلان کیا، جس کے بعد موٹرویز اور جی ٹی روڈ کے مختلف مقامات پر سڑکیں بند کر دی گئیں۔ یہ دھرنے تاحال جاری ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے باہر بھی دھرنا دیا جا رہا ہے۔
عمران خان کے لیے کہاں کہاں احتجاج اور دھرنے ہو رہے ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے جمعے کی نماز کے بعد صوبے بھر میں احتجاج کی کال دی تھی۔ تاہم، اسلام آباد میں دھرنے کے اچانک اعلان کے بعد خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والی موٹرویز اور جی ٹی روڈز کو بند کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ کے مطابق اس وقت صوبے میں 7 سے زائد مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعے سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہے اور قیادت کی ہدایات پر کارکنان نے موٹرویز اور جی ٹی روڈز بند کر رکھے ہیں۔
ان کے مطابق ایم ون موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا جاری ہے، جس کے باعث اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند ہیں اور عمران خان کی صحت کے معاملے پر پُرامن احتجاج جاری ہے۔
اکرام کٹھانہ کے مطابق ’تمام راستے اس وقت تک بند رہیں گے جب تک عمران خان کو ذاتی معالج تک رسائی اور الشفا اسپتال میں ذاتی معالج کی نگرانی میں مکمل علاج فراہم نہیں کیا جاتا۔‘ انہوں نے بتایا کہ موٹرویز اور ہائی ویز انصاف یوتھ ونگ، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور تحریک انصاف کے کارکنان نے بند کی ہیں، جبکہ صوبائی اور مرکزی قیادت اس وقت اسلام آباد میں تین مختلف مقامات پر دھرنا دیے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق درج ذیل مقامات پر سڑکیں بند ہیں:
صوابی انبار انٹرچینج (ایم ون موٹروے)
ڈی آئی خان – بھکر روڈ
لکی مروت – میانوالی روٹ
ہزارہ موٹروے
ایبٹ آباد، حویلیاں انٹرچینج
کوہاٹ – پنڈی روڈ (خوشحال گڑھ کے قریب)
اسلام آباد – میانوالی (سی پیک روڈ)
یارک ٹول پلازہ
اپر کوہستان میں سی پیک انٹرچینج
گلگت جانے والی شاہراہ قراقرم
انہوں نے بتایا کہ نوشہرہ میں خیرآباد پل پر دھرنا کچھ وقت کے لیے ختم کیا گیا تھا، تاہم دوپہر 2 بجے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
روڈ بندش سے مسافروں کو مشکلات
اسلام آباد جانے والے اختر ایوب کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند ہے۔ میں اب بھی اڈے میں موجود ہوں۔ موٹروے بند ہے، جی ٹی روڈ بھی بند ہے۔ گاڑیوں پر پتھراؤ کے خوف سے ڈرائیور جانے کو تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟
محبوب احمد، جو ایک سرکاری افسر ہیں اور اسلام آباد میں تعینات ہیں، نے بتایا کہ وہ ہر جمعے پشاور آتے ہیں اور اتوار کی شام یا پیر کی صبح واپس جاتے ہیں، مگر اس بار احتجاج کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔ ہم روڈ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ پریشانی ہوتی ہے، ماں بھی گھر سے نکلنے نہیں دے رہی کہ کہیں مشتعل مظاہرین توڑ پھوڑ نہ کریں۔
حاجی کیمپ میں موجود ڈرائیور عدنان خان نے بتایا کہ روڈ بندش سے مسافروں کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹرز بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ گزشتہ روز گاڑیوں پر پتھراؤ بھی ہوا۔ جی ٹی روڈ سے گاڑیاں جا رہی تھیں، مگر توڑ پھوڑ کے خوف سے اب ڈرائیور سفر پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں راستے بند ہیں، جبکہ پنجاب کی حدود میں سڑکیں کھلی ہیں۔ یہ تمام دھرنے خیبر پختونخوا کی حدود میں ہو رہے ہیں، اور مشکلات بھی یہاں کے عوام کو ہی برداشت کرنی پڑ رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اسلام آباد میں وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا جاری ہے۔ انہوں نے احتجاج کو غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عمران خان کی صحت اور بہتر علاج کے لیے دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے رپورٹ آنے کے بعد عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔













