لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور امریکن بزنس فورم نے پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک اعلیٰ سطح پالیسی مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے فنانس و ریلوے بلال اظہر کیانی، آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اسٹیفن ڈرکن، اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: لاہور کی لمز یونیورسٹی کیسے مشہور ہوئی؟ کون کون یہاں سے پڑھا؟
ڈاکٹر اسٹیفن ڈرکن نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں پائیدار ترقی کے لیے ساختیاتی اصلاحات اور 5 سالہ مضبوط اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل ضروری ہے، جس میں غیر ضروری ٹیکسوں کے خاتمے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی شامل ہو۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے ڈائیلاگ کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے اور ’اڑان پاکستان‘ منصوبہ اس مقصد کی جانب اہم قدم ہے۔
مزید پڑھیں: فیکٹ چیک: لمز یونیورسٹی پر پولیس کے چھاپے کی خبریں، حقیقت کیا ہے؟
لمز کے پروفیسر ڈاکٹر علی حسنین اور ڈائریکٹر ایڈوانسمنٹ آفس محمد علی ابراہیم نے بھی پروگرام میں خطاب کیا، اور معاشی ترقی کے لیے شفاف، قابل پیمائش اور عملی اہداف مقرر کرنے پر زور دیا گیا۔













