کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ باصلاحیت طالبہ ارپانگہ بریال نے امریکا میں منعقدہ عالمی کوپرنیکس اولمپیاڈ میں چاندی کا تمغہ حاصل کر کے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کر دیا۔ اس نمایاں کامیابی کے بعد ارپانگہ بریال بلوچستان کی پہلی طالبہ بن گئیں جنہوں نے اس معتبر عالمی مقابلے میں سلور میڈل اپنے نام کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی بیٹی ایمان تاجک جو محض 3 سال میں قومی ووشو اسٹار بن گئی
کوپرنیکس اولمپیاڈ میں دنیا بھر سے ذہین اور باصلاحیت طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جہاں مختلف سائنسی اور تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔ ارپانگہ بریال نے اپنی غیر معمولی ذہانت، محنت اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں پوزیشن حاصل کی اور عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ارپانگہ بریال نے اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ مستقبل میں بھی محنت جاری رکھتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے پیچھے ان کے والدین اور اساتذہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کا اہم کردار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی بیٹی ارپانگہ بریال نے عالمی ’کوپر نیکس اولمپیاڈ‘ کے لیے کوالیفائی کرلیا
ارپانگہ بریال کی اس شاندار کامیابی پر ان کے گھر میں جشن کا سماں ہے۔ اہلخانہ، اساتذہ اور عزیز و اقارب خوشی سے نہال ہیں اور بیٹی کی کامیابی پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ ارپانگہ نے بچپن سے ہی تعلیم میں غیر معمولی دلچسپی اور لگن کا مظاہرہ کیا اور مسلسل محنت کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ارپانگہ مستقبل میں بھی مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔
کوپرنیکس اولمپیاڈ کو دنیا بھر میں جدید سائنسی تحقیق، تخلیقی سوچ اور طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والا ایک اہم عالمی پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا کسی بھی طالب علم کے لیے ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی یوم خواتین: بلوچ خواتین بلوچستان کا ہی نہیں پاکستان کا فخر ہیں
اپنے دورہ امریکا کے دوران ارپانگہ بریال نے ہیوسٹن میوزیم آف نیچرل سائنس اور جانسن اسپیس سینٹر کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید سائنسی منصوبوں اور خلائی تحقیق کے مختلف پہلوؤں کا مشاہدہ کیا۔ اس دورے نے ان کی سائنسی دلچسپی کو مزید تقویت دی اور مستقبل میں سائنس کے شعبے میں آگے بڑھنے کے عزم کو مضبوط کیا۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق ارپانگہ بریال کی یہ کامیابی بلوچستان کے دیگر نوجوان طلبہ کے لیے ایک مثال ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ اگر محنت، لگن اور مناسب رہنمائی میسر ہو تو صوبے کے نوجوان عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔













