حکومت پاکستان اور پنجاب حکومت سکھ یاتریوں کی بہترین میزبانی کے لیے کوشاں، سردار رمیشن سنگھ اروڑا

جمعرات 19 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیکریٹری مذہبی امور ڈاکٹر ساجد محمود چوہان کی زیر صدارت کرتار پور صاحب گردواہ گورننگ کونسل کے اجلاس میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیشن سنگھ اروڑا نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پنجاب حکومت سکھ یاتریوں کی بہترین میزبانی کے لیے کوشاں ہے۔

مزید پڑھیں: کرتارپور اور ننکانہ صاحب موٹر ویز سے منسلک، ’گرو نانک ایکسپریس وے‘ تعمیر کی منظوری

اجلاس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، وزارتِ خزانہ، پلاننگ کمیشن، وزارتِ دفاع، وزارتِ قانون و انصاف، وزارتِ اطلاعات و نشریات، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے نمائندے شریک ہوئے۔

سیکریٹری مذہبی امور نے کہا کہ کرتار پور صاحب راہداری پراجیکٹ انسان دوستی اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مظہر ہے اور آنے والے یاتریوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: سائیکل پر 102 کلومیٹر کا سفر کر کے کرتارپور پہنچنے والے کمسن طالبعلم کا والہانہ استقبال

اجلاس میں بھارتی آبی جارحیت اور سیلاب سے متاثرہ حصوں کی مرمت و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 2 ہفتے کے اندر کونسل کا دوبارہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غیرملکی وفود کی آمدورفت، اسلام آباد پولیس کی عوام کے لیے اہم ہدایات جاری

امریکا اور ایران کے وفود جمعے کو پاکستان آرہے ہیں، اللہ کو منظور ہوا تو جنگ کے شعلے ہمیشہ کے لیے بجھ جائیں گے، وزیراعظم

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟