مشیرِ وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے نجی ٹیلیویژن پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمران خان سے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہ ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پیشکش صرف یہ ہے کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر میثاقِ استحکامِ پاکستان کے لیے بیٹھیں اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کام کریں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان نے جیل سے باہر آنے سے انکار کیوں کیا؟ رانا ثنا نے وجہ بتادی
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کے بیان کو ایک فقرے تک محدود کرنے کے بجائے پورے تناظر میں دیکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب انہوں نے کہا کہ ان کی شرط یہ ہے کہ آپ ادھر آ جائیں اور میں ادھر آ جاؤں جہاں آپ ہیں، تو اس سے مراد یہ تھی کہ اس نوعیت کی کوئی ڈیل ممکن ہی نہیں۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے عمران خان سے نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کو جب عمران خان نے اسلام آباد کا رخ کیا تو اس وقت ایک بات چیت ضرور ہوئی تھی، تاہم وہ اس پر متفق نہیں ہوئے۔ موجودہ سیاسی بحران کے دوران ان کی سیکنڈ درجے کی قیادت سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں اور انہیں بارہا سمجھایا گیا ہے کہ اگر وہ ملاقاتوں کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے، بلو دی بیلٹ گفتگو، جیل سے باہر آ کر پریس کانفرنسوں اور ٹویٹس کے لیے استعمال نہ کریں تو ملاقاتوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر وہ اس بات پر آمادہ ہو جائیں تو کیا اسے ڈیل کہا جائے گا؟ ملاقاتیں ہو سکتی ہیں، مگر اسے ڈیل قرار دینا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں ہونے چاہی، طارق فضل چوہدری
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بطور وزیراعظم واضح کر چکے ہیں کہ آئیں میثاقِ استحکامِ پاکستان کریں اور سب مل کر ملک کو مضبوط بنانے کے لیے بیٹھیں۔ اگر عمران خان واقعی پاکستان کے لیے بیٹنگ کو تیار ہیں، جیسا کہ علی امین گنڈاپور نے کہا، تو پھر دہشتگردی کے خلاف تعاون کیا جائے اور ریاست مخالف بیانیے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے 24 نومبر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بات یہ ہوئی تھی کہ اسلام آباد کے گھیراؤ کا فیصلہ واپس لیا جائے اور سنگجانی جا کر بیٹھ جائیں، تو پھر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ تاہم عمران خان ہٹ دھرمی اور ضد کے اس درجے پر ہیں کہ کسی بات پر آمادہ نہیں ہوتے۔
9 مئی واقعات پر معافی کی بات
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ باہر سے آنے والے افراد کے حوالے سے اطلاعات تھیں کہ عمران خان ابتدائی طور پر بعض امور پر آمادہ ہوئے لیکن بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔ بنیادی طور پر 9 مئی کے واقعات پر معذرت یا افسوس کے اظہار کی بات تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتی ہے، رانا ثنااللہ
انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی کوئی ڈیل نہ اسٹیبلشمنٹ نے کی اور نہ حکومت نے۔ جو بات چیت ہوئی، وہ اسی نکتے پر تھی کہ 9 مئی پر معافی مانگی جائے۔ ان کے بقول اطلاعات تھیں کہ پہلے آمادگی ظاہر کی گئی، پھر اس سے انکار کر دیا گیا۔
ڈی چوک اور سنگجانی کا معاملہ
انہوں نے کہا کہ 24 نومبر کے معاملے میں بھی یہ بتایا گیا کہ عمران خان ڈی چوک نہ آنے اور سنگجانی جانے پر راضی ہو گئے تھے، جس کی تائید علی امین گنڈاپور نے بھی کی۔ تاہم یہ یک طرفہ رعایت تھی۔ حکومت کی پوزیشن یہ تھی کہ ریڈ زون میں آ کر احتجاج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعظم 3 مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ آئیں، بیٹھ کر بات کریں اور میثاقِ استحکامِ پاکستان پر گفتگو کریں، مگر عمران خان بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ کسی کو اختیار دے دیا گیا ہے، بے معنی بات ہے، کیونکہ سیاسی ڈائیلاگ کی پالیسی ہی اختیار نہیں کی جا رہی۔
وزیراعظم اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس مکمل اختیار ہے اور وہ ملاقات سے کبھی انکار نہیں کریں گے۔ محمود خان اچکزئی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ جب انہیں کہا گیا کہ وزیراعظم سے وقت طے کر لیں تو انہوں نے جواب دیا کہ پہلے وہ عمران خان سے ملیں گے اور وہاں سے اجازت لے کر بات آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوری نظام میں یہ ممکن نہیں کہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان رابطہ نہ ہو، تاہم 2018 سے 2022 کے دور میں ایسا ہوا کہ نہ بات ہوئی، نہ ہاتھ ملایا گیا۔
علیمہ خان کی پیشکش اور علاج کا معاملہ
اس سوال کے جواب میں کہ علیمہ خان کی جانب سے یہ پیشکش کہ اگر فیلڈ مارشل کا نام نہ لیا جائے تو عمران خان کا شفا انٹرنیشنل میں فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں معائنہ کرایا جائے، اس پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر اس پر کسی سطح پر غور ہو بھی جائے تو اسے ڈیل نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ کسی ڈیل کا معاملہ نہیں بلکہ علاج کی سہولت کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی واضح ہے کہ مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی، اور اس میں پہلے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ علاج بروقت ہوا اور اس میں کوئی تاخیر نہیں کی گئی۔
دھرنا، ہڑتال اور آئندہ لائحہ عمل
انہوں نے کہا کہ دھرنا اور پہیہ جام ہڑتال پہلے ہی ناکام ہو چکی ہیں۔ پارلیمنٹ میں ملاقاتوں کے دوران بھی متعلقہ افراد کو بتایا گیا تھا کہ یہ اقدام ناکام ہوگا اور اس سے نقصان ہوگا۔ اگر کسی مرحلے پر کوئی بات ہوئی تو وہ ملک کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تھی، نہ کہ کسی ڈیل کے طور پر۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی سے متعلق نئی پیشرفت، پنجاب کو نئی سہولیات مل گئیں
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اب عید کے بعد کسی نئی فورس کی تیاری یا احتجاجی اعلان سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا، بلکہ یہ پہلے سے بڑی ناکامی ثابت ہوگی۔











