مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کو آنکھ کے علاج کے سلسلے میں دوسرا انجکشن لگانے کے لیے 25 فروری کو دوبارہ اسپتال لایا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انجکشن مخصوص طبی سہولت میں ہی لگائے جا سکتے ہیں، اس لیے انہیں عارضی طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:’عمران خان رہائی فورس‘ کے قیام میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی؟
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق عمران خان کو 25 جنوری کو پہلا انجکشن لگایا گیا تھا، جبکہ دوسرا انجکشن 25 فروری کو لگانے کی مجوزہ تاریخ مقرر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاج کے اس طریقہ کار کے تحت تیسرا انجکشن دوسرے انجکشن کے ایک ماہ بعد لگایا جائے گا۔
ڈاکٹر طارق فضل نے وضاحت کی کہ آنکھ کے اس مخصوص علاج کے لیے دیے جانے والے انجکشن عام طبی مرکز میں نہیں لگ سکتے بلکہ انہیں خصوصی طبی سہولت یعنی اسپتال میں ہی لگانا ضروری ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عمران خان کو انجکشن کی غرض سے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 25 جنوری کو دیا جانے والا پہلا انجکشن علاج کے ابتدائی مرحلے کا حصہ تھا اور مزید انجکشن بھی اسی تسلسل میں لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 25 فروری کو اسلام آباد میں دوسرا انجکشن لگایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے انہیں اسپتال لانا ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید بتایا کہ اسپتال منتقلی صرف انجکشن لگانے تک محدود ہوگی اور طبی عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ منتقل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ کوئی مستقل داخلہ ہوگا، بلکہ یہ ایک مخصوص طبی ضرورت کے تحت عارضی اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟
واضح رہے کہ عمران خان کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے اس سے قبل بھی میڈیکل رپورٹس اور مشاورت سامنے آتی رہی ہیں۔ موجودہ بیان کے بعد امکان ہے کہ 25 فروری کو انہیں سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت اسپتال منتقل کیا جائے گا تاکہ طے شدہ طبی عمل مکمل کیا جا سکے۔













