سیاست کے کھیل میں سب سے خطرناک مقام بند گلی ہوتی ہے۔ اس مقام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ عمران خان جیسے غیر سیاسی لوگوں کو نظر ہی تب آتا ہے جب یہ اس میں جاپہنچتے ہیں۔ اب دنیا کو ڈونلڈ ٹرمپ، جسٹن ٹروڈو، ایمانوئل میکرون اور ولادیمیر زیلنسکی جیسے نمونے دینے والے جین زی منہ بسور لیں گے کہ ان کے ہینڈسم کو غیر سیاسی کہہ دیا۔ حالانکہ یہ ان کے لیے مقام شکر ہے، ورنہ درست لفظ سیاسی احمق ہی بنتا ہے۔ یہ کوئی طنز نہیں بلکہ اسے دلائل سے بطور حقیقت واضح اور ثابت بھی کیا جاسکتا ہے۔
مثلاً آپ یہ دیکھیے کہ خان صاحب اپنے جین زی چوزوں کو چورن کے جو فلیورز بیچتے آئے ہیں ان میں ایک فلیور یہ بھی شامل تھا کہ میں کبھی ہار نہیں مانتا، یہ اسپورٹس کی دنیا کے بڑے اصولوں میں سے ہے کہ ڈونٹ گیو اَپ۔ مگر خان صاحب اتنا سا سیاسی شعور بھی نہ رکھتے تھے کہ اسپورٹس کی دنیا کا یہ بڑا اصول سیاست کے جہاں میں شجر ممنوعہ کہلاتا ہے۔ سیاست کی دنیا کا بڑا اصول یہ ہے کہ یہ گیو اینڈ ٹیک کے اصول پر چلتی ہے۔ جو کبھی ہار نہ ماننے کے بالکل برعکس ہے۔ سیاست کی دنیا میں تو آپ کو بڑی جیت کے لیے چھوٹی ہاریں ماننی پڑتی ہیں۔ اسے ایک مثال سے سمجھیے۔
ملک میں قومی تاریخ کا سب سے سخت مارشل لا نافذ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی طے تھی سو دے دی گئی۔ پارٹی لیڈر کچھ زیر زمین چلے گئے، کچھ سیاست سے ہی لاتعلق ہوگئے۔ بھٹو کی بیوہ نصرت بھٹو نے کوئی 9 مئی نہیں کیا بلکہ بیٹی سمیت پسپائی اختیار کرکے جلاوطن ہوگئیں۔ بھٹو کے بڑے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو نے انتقاماً الذولفقار نامی دہشتگرد تنظیم بنائی تو ماں بیٹی دونوں نے ان سے مکمل سیاسی لاتعلقی اختیار کرلی جو آگے چل کر ہر طرح کی لاتعلقی میں بدل گئی۔ بظاہر یوں لگا جیسے پیپلزپارٹی نے ہی نہیں بلکہ بھٹو کے حقیقی ورثا نے بھی ہار مان لی، لیکن حقیقت میں بڑی جیت کے لیے یہ چھوٹی ہار ناگزیر تھی۔ کیوں؟ کیونکہ سیاست کا ایک اور اہم اصول یہ ہے کہ درست وقت پر درست فیصلہ۔ اگر وقت اور فیصلے میں سے ایک درست اور دوسرا غلط ہو تو نتائج صفر بھی ہوسکتے ہیں اور خطرناک بھی۔
اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر محترمہ بینظیر بھٹو نے اطمینان سے اپنا گیم پلان کیا۔ ان کی مشاقی دیکھیے کہ ان کے والد کے خلاف مذہب کا کارڈ ہی سب سے خطرناک ثابت ہوا تھا۔ وہ کارڈ جس پر تصویر بھی مفتی محمود جیسے قد آور کی چسپاں تھی، لیکن محترمہ کے سامنے صورتحال یہ تھی کہ مفتی محمود دنیا سے کوچ کر چکے تھے، اور ان کی جگہ ان کا فرزند ارجمند لے چکا تھا۔ سو محترمہ کے ماسٹر پلان میں ایک اہم ترین چیز یہ شامل رہی کہ وہ فضل الرحمانی کارڈ کو ہمیشہ اپنے ہی پرس میں رکھیں گی۔ یہ کارڈ وہ اپنے خلاف کسی کو بھی استعمال نہیں کرنے دیں گی، اور جب درست وقت آیا تو ایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے یہ دونوں جواں سال لیڈر غوث بخش بزنجو اور ولی خان جیسے بزرگ سیاستدانوں کی ہمراہی میں جنرل ضیا کے لیے چیلنج بن گئے۔ نتیجہ یہ کہ 10 سال بعد محترمہ نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔
اس سٹٹڈی کیس کو ذہن میں رکھ کر آپ ذرا جین زی والے نابغے کا جائزہ لیجیے۔ عثمانی خلیفہ جنرل ضیا نے بھٹو کو صرف اقتدار سے نہیں نکالا تھا، بلکہ پہلے نظر بندی، پھر رہائی، پھر مکمل قید، پھر قید تنہائی اور آخر میں پھانسی دی۔ جبکہ جین زی کے قائد نما مہرے جناب عمران خان اس ملک کے واحد وزیراعظم ہیں جنہیں بس اقتدار سے نکالا گیا وہ بھی تحریک عدم اعتماد جیسی سیاسی و آئینی سرگرمی کے ذریعے۔ کوئی نظر بندی نہیں، کوئی ایسا کیس نہیں جس میں سزائے موت یا عمر قید کا امکان ہوتا، کوئی قید نہیں، پابندی نہیں، لاڈلا جو تھا۔ جواب میں سیاسی داؤ پیچ کی بجائے گالم گلوچ اور توہین و تذلیل کی وہ راہ اختیار کی گئی جس کا نتیجہ ان کے اپنے سرپرستوں کی تقسیم کی صورت نکلا۔
سیاسی تنہائی کا تو وہ پہلے ہی خود کو شکار کرچکے تھے، اپنے نام نہاد لانگ مارچ کی حکمت عملی انہوں نے استوار ہی اس اصول پر کی تھی کہ سیاسی کشمکش کو ذاتی جنگ میں بدلنا ہے۔ یوں کوئی ایک بھی جماعت ایسی نہ تھی جس کے لیڈر پر انہوں نے ذاتی حملے نہ کیے ہوں۔ سو ان کی واحد لائف لائن اسٹیبلشمنٹ ہی تھی، اور اس لائف لائن کو اقتدار سے باہر آتے ہی انہوں نے بدست خود بارود لگا دیا۔ یوں یہ لائف لائن اب بری طرح ڈیمج تھی۔ جس کا پورا پورا فائدہ شریف فیملی نے اٹھایا، اگر غور کیجیے تو اس فائدے کے لیے بھی گیو اینڈ ٹیک ہوا۔ نواز شریف کو سیاست سے 90 فیصد لاتعلقی اختیار کرنی پڑی، گویا پارٹی مفاد کو ذات پر فوقیت دی۔
خان صاحب کے معاملے میں آپ حماقت کی حد دیکھیے کہ سیاست میں قید و بند سیاسی سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔ ان حضرت نے اس سرمائے کو بھی اپنے ہی نفسیاتی خوف میں بدل لیا۔ وہ صبح چیلنج دیتے کہ مجھے گرفتار کرکے دکھاؤ، اور شام ہوتے ہی ٹوئٹ کردیتے زمان پارک پہنچو، کیوں؟ کیونکہ گرفتاری کا خطرہ ہے۔ اور اس دھمکی کے تو کیا ہی کہنے گرفتاری کے بعد اور خطرے ناک ہوجاؤں گا، سبحان اللہ!
اگلے جین زی کے پاپڑ نہ تھے، انہوں خان صاحب کی یہ چال انہی پر الٹ دی۔ وہ گرفتاری کا امکان تو پیدا کرتے مگر گرفتار نہ کرتے۔ ان سے روز زمان پارک پہنچنے والی ٹوئٹس کروا کر جین زی کو بندر تماشا بنا دیتے۔ وہ جانتے تھے کہ اعصاب کے اس مقابلے میں فاؤل پلے بھی انہی کی طرف سے آئے گا۔ یوں انہوں نے خان کو گرفتار ہی تب کیا جب خان فاؤل پلے کے لیے ماحول مکمل تیار کرچکے۔ سو ادھر گرفتاری، ادھر 9 کے حملے۔ یعنی گرفتاری کے بعد مزید خطرے ناک ہونے کی سوچی سمجھی سکیم اب ایک حقیقت بن چکی تھی۔ کیا یہ سیاسی غلطی تھی؟ نہیں، یہ سیاسی خود کشی تھی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ سیاسی خود کشی کا لفظ ان کے لیے استعمال کرنا پڑ رہا ہے جو اپنے کسی ایک عمل سے بھی یہ ثابت نہیں کرپائے کہ وہ سیاسی شخصیت ہیں اور سیاست جانتے ہیں۔
وہ بس ایک مہرہ تھے۔ وہ مہرہ جو 9 مئی کے بعد کے واقعات کی سمت دیکھ کر یہ تک نہیں بھانپ سکا کہ وہ جس بساط پر تھے وہ مکمل طور پر لپیٹی جارہی ہے، اور بالآخر لپیٹ دی گئی۔ ہم یہ بات پہلے بھی کئی بار کہہ چکے، ایک بار پھر دہرا دیتے ہیں کہ ان کا باب بند ہوچکا۔ ان کی سیاست میں واپسی کبھی بھی نہیں ہوگی۔ یہ بات ہم اتنے یقین سے اس لیے کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست کے صرف ظاہر کو نہیں دیکھتے بلکہ اس کے اس باطن پر بھی نظر رکھتے ہیں جو اسٹیبلبشمنٹ کہلاتی ہے۔ پاکستان امریکا و برطانیہ سمیت ان چند ممالک میں سے ہے جن کی سیاست کا مکمل کنٹرول ان کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے۔ اگر کوئی فرق ہے تو بس یہ کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ سامنے بھی آجاتی ہے، جبکہ امریکا و برطانیہ میں یہ ہمیشہ پردے کے پیچھے رہتی ہے۔
اشد مجبوری میں صرف ایک بار آٹھ دس سال قبل برطانوی اسٹیبلشمنٹ بس اتنی سی سامنے آئی کہ جب جرمی کوربن کے وزیراعظم بننے کا امکان نظر آیا تو برطانوی جرنیلوں نے بیان دیدیا کہ اگر جرمی کوربن وزیراعظم بنے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ جانتے ہیں ردعمل کیا آیا؟ کسی نے چوں تک نہ کی بلکہ جرمی کوربن کا وزیراعظم بننے کا امکان مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ صف اول کا وہ لیڈر آج تیسری صف کے لیڈروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ہوتی ہے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت۔
کیا ہم اسٹیبلشمنٹ کو گلوریفائی کررہے ہیں؟ قطعاً نہیں، ہم آپ کو بس وہ سچ بتا رہے ہیں جو ننگا بھی ہے، اور عیاں بھی۔ مگر کچھ سیاسی تجزیہ کار اسے دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ وہ اتنا بھی نہیں سوچ پاتے کہ اسٹیبلشمنٹ کے دانٹ توڑنے کا سیاسی وعدہ کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دور اقتدار میں بھی اس وعدے کو نبھانے کا حوصلہ کیوں نہیں کرپا رہا؟ اسے انکرچ والی پریس کانفرنس میں پیوٹن کی موجودگی میں یہ کیوں کہنا پڑا، میرے ماسکو آنے پر تو بڑے مسائل پیدا ہوجائیں گے، ٹرمپ جیسا سر پھرا صدر کس سے ڈر رہا ہے؟ جو جنگ اس نے انتخابی وعدے کے مطابق اقتدار کے پہلے 24 گھنٹوں میں ختم کرانی تھی وہ اسے اقتدار کے دوسرے سال میں بھی ختم کرانے سے گریزاں کیوں ہے؟
برادرمکرم عمار مسعود فرماتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی مشکل یہ ہے کہ اگر خان کو چھڑاتے ہیں تو ہمدردی ہاتھ سے نکلتی ہے، اور ہمدردی برقرار رکھتے ہیں تو خان رہا نہیں ہوپاتا۔ سوال یہ ہے کہ ہمدردی رکھنے والے جین زی تو بس خان کا ہی ترکہ ہے، جب خان کی سیاسی واپسی ممکن ہی نہیں تو یہ ہمدردی کس کام کی اور کس کے کام کی؟ خان کی صرف رہائی ممکن ہے، سیاست میں ان کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے اس واپسی کا مطلب ہوگا 9 مئی کو نیو نارمل کے طور پر قبول کرلینا۔ یہ غلطی اسٹیبلشمنٹ کر ہی نہیں سکتی۔ 9 مئی کے نتیجے میں خان کے پولیٹکل کیریئر کا خاتمہ ہی نیو نارمل رہے گا۔ اور یہ نیو نارمل اگلوں کے لیے عبرت کی مثال بنے گا۔ عمار مسعود یہ نکتہ فراموش کررہے ہیں کہ جنرل ضیا کا بھٹو اور پیپلزپارٹی کے خلاف ردعمل کوڑوں اور پھانسی کی صورت اس لیے آیا تھا کہ جنرل گل حسن کے اغوا کا واقعہ ہوچکا تھا۔ یعنی ریڈ لائن کراس ہوگئی تھی۔ بھٹو والی تاریخ دہرانا ممکن نہیں سو واحد آپشن خان کے اس پولیٹکل کیریئر کا خاتمہ ہی بچتا ہے جو سب کچھ تھا مگر پولیٹکل نہ تھا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












