وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں جنگوں کے دوران پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی لیکن بدلے میں بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف افغان قیادت بلکہ ان کے خاندانوں کی بھی دہائیوں تک مہمان نوازی کی جن میں سراج الدین حقانی کا خاندان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغان قیادت کا ہدف مشترکہ تھا، تاہم بعد ازاں نائن الیون کے بعد پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹا لیا
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے متعلق پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات سچ تھے یا جھوٹ، اس بارے میں سراج الدین حقانی کو دنیا کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں افغان دھڑوں کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں کیں اور انہیں مکہ معظمہ لے جا کر مفاہمت کی راہ بھی ہموار کی۔
حقانی صاحب آپکی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان کے ساتھ آپکے ساتھ کھڑا تھا ۔ آپ ھمارے مہمان رہے آپکے خاندانوں کی دھائیاں مہمانداری کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں لاکھوں ابھی بھی پاک سر زمین پہ پناہ گزین ھیں۔ ھماری پاک مٹی سے رزق کماتے ھیں۔ آپ بھی بمعہ… https://t.co/RlYy2oZlqS
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 27, 2026
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے 3 نسلوں تک افغان قیادت کی میزبانی کی، مگر اس کے بدلے میں پاکستان کو دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ایسے عناصر کی پشت پناہی نہ کریں جو پاکستان میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: روس بھی باقی دنیا کی طرح افغانستان کی صورتحال سے پریشان
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی سے کچھ نہیں مانگتا، صرف یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور دشمن عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
وزیر دفاع نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ہماری روایت، ثقافت اور دین یہ سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی جائے اس کی خیر خواہی کی جائے۔
انہوں نے ’اللہ اکبر‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے کے ساتھ اپنا بیان ختم کیا۔













