بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت (بنگلہ دیش نیشنل پارٹی) کے خلاف اعلانیہ اور خفیہ دونوں طرح کی سازشیں جاری ہیں، جن کا مقابلہ سیاسی طور پر کرنا ہوگا۔
ہفتے کی شام سلہٹ میں شلپاکلا اکیڈمی میں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ عناصر کھل کر اور کچھ پسِ پردہ پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، جنہیں سیاسی حکمتِ عملی سے شکست دینا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان سے پارٹی اصلاحات کو اولین ترجیح دینے کا مطالبہ
طارق رحمان نے عوام کے ساتھ مضبوط رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پارٹی ارکان کو خبردار کیا کہ وہ عوام سے کٹ کر نہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جو حمایت ہمیں دی ہے، اسے ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہو گا تاکہ پارٹی کا عوامی مینڈیٹ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو اندرونی دھڑے بندیوں سے بچنے کا مشورہ بھی دیا اور کہا کہ کارکنوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنا پارٹی میں دراڑیں پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
ماضی کی سیاسی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کارکنوں کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور ہدایت کی کہ ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک برتا جائے تاکہ کوئی بھی ساتھی خود کو الگ تھلگ محسوس نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: میں بھی ملک کی ترقی کے لیے وقف ایک مزدور ہوں، بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کا یوم مزدور پر پیغام
نظم و ضبط کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی کے اندر کوئی غلطی ہو تو پہلے رہنمائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر ہی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انہوں نے پارٹی ارکان کو مستقبل کے لیے اسٹریٹجک تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نچلی سطح پر عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کے لیے تین ماہ کا جامع منصوبہ بنایا جائے، جبکہ مقامی حکومتوں کے آنے والے انتخابات کے لیے بھی تیاریاں شروع کی جائیں۔
اس اجلاس کی صدارت سلہٹ سٹی بی این پی کے قائم مقام صدر رضا الحسن لودھی قیس نے کی، جس میں ضلعی اور شہر کے دیگر اہم رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس سے قبل طارق رحمان نے سلہٹ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے سنگِ بنیاد رکھنے اور افتتاحی تقاریب میں بھی شرکت کی۔














