نیو میکسیکو میں پیر سے شروع ہونے والا ایک عدالتی ٹرائل فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے طریقہ کار میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس مقدمے میں میٹا پلیٹ فارمز کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عدالت نے سخت فیصلے دیے تو کمپنی ریاست سے اپنی خدمات واپس لینے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کی جانب سے دائر کردہ اس مقدمے میں سوشل میڈیا کمپنی پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے اپنی مصنوعات کو نوجوان صارفین کو عادی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا اور بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر
اس ٹرائل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کیا میٹا کے پلیٹ فارمز نیو میکسیکو کے قانون کے تحت ’پبلک نیوسنس‘ (عوامی پریشانی) کا سبب بنے ہیں۔ اگر جج اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ایسا ہوا ہے، تو وہ کمپنی کو نوجوان صارفین کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا حکم دے سکتے ہیں۔
یہ مقدمہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ امریکا بھر میں دیگر ریاستیں، بلدیات اور اسکول ڈسٹرکٹ بھی اسی طرح کے دعوؤں کے ذریعے انڈسٹری کی سطح پر تبدیلیاں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ ٹرائل نیو میکسیکو کے مقدمے کا دوسرا مرحلہ ہے، اس سے قبل مارچ میں ایک جیوری نے میٹا کو ریاست کے صارفی تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 375 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بچپن سے سوشل میڈیا کی لت میں مبتلا خاتون نے گوگل اور میٹا کے خلاف مقدمہ جیت لیا
میٹا نے گزشتہ ہفتے عدالتی کارروائی کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ اٹارنی جنرل کی جانب سے طلب کردہ بہت سی تبدیلیاں ناممکن ہیں اور ان پر عملدرآمد کے بجائے ریاست سے مکمل انخلا کرنا پڑسکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بچوں کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کرچکی ہے اور ریاست کی تجویز کردہ شرائط والدین کے حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہیں۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل کا دفتر اربوں ڈالر کے مزید ہرجانے اور میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کا پابند بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’پبلک نیوسنس‘ کا دعویٰ ایسی سرگرمیوں کو نشانہ بناتا ہے جو کسی کمیونٹی کی صحت اور حفاظت میں غیر ضروری مداخلت کا باعث بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا میٹا کے خلاف تاریخی فیصلہ، صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر جرمانہ
ماضی میں تمباکو، منشیات اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق مقدمات میں بھی اسی قانون کا سہارا لیا گیا ہے، میٹا نے اپنے سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین میں سیکیورٹی اور ریگولیٹری دباؤ کمپنی کے کاروباری اور مالیاتی نتائج پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔














