وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ’آپریشن غضب للحق‘ کی تازہ ترین صورتحال جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ہفتے کی صبح 9 بجے جاری بیان کے مطابق اب تک افغان طالبان کے 331 کارندے ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن ’غضب للحق‘: افغان طالبان کو کس قدر نقصان اٹھانا پڑا، تفصیلات منظر عام پر آگئیں
بیان میں کہا گیا کہ 163 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی تباہ کی گئی ہیں اور افغانستان بھر میں 37 مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
Operation Ghazb lil Haq
Update 0900 hours 28 Feb✅*Summary of Afg Taliban losses*
▪️331 Killed,
▪️500 + Injured,
▪️104 Check posts destroyed,
▪️22 Post Captured,
▪️163 Tanks and Armed vehs Destroyed
▪️37 Locs across Afg eff tgt by air— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 28, 2026
گزشتہ روز جمعے کے روز پاکستانی افواج نے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان حکومت کی اہم عسکری تنصیبات کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن مطلوبہ نتائج دے رہا ہے اور سرحد کے ساتھ درجنوں افغان چیک پوسٹوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا ہے۔
یہ کارروائیاں افغان طالبان کی جانب سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب پاکستانی چوکیوں پر حملوں کے بعد کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔












