امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ

پیر 2 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشگی کسی بھی آپشن کو خارج نہیں کریں گے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی طرح پہلے ہی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ زمینی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: حزب اللہ کے انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ حسین مقلد کو شہید کردیا، اسرائیل کا دعویٰ

ان کے بقول حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں اس کی ضرورت پیش نہ آئے، تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ مستقبل میں یہ قدم ناگزیر بن جائے۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکا کے اہداف واضح کیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے میزائل پروگرام کو غیر مؤثر بنانا، اس کی بحری قوت کو نقصان پہنچانا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر مسلح گروہوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور تربیت فراہم کرنے سے باز رکھنا بھی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔

صدر کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام دراصل جوہری صلاحیت کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں تک رسائی مل گئی تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکا کے لیے بھی سنگین خطرہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس پیش رفت کو روکنے کے لیے پرعزم تھا اور عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل تھی۔

ٹرمپ نے مزید کہاکہ واشنگٹن نے پہلے سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن مذاکرات بارہا ناکام رہے۔ ان کے بقول اسی پس منظر میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ یہ اقدام خطرات کے خاتمے کا آخری موقع سمجھا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایران کے 10بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ صدر کے مطابق جاری عسکری آپریشن منصوبے سے تیز رفتار ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ کارروائی چار سے پانچ ہفتوں پر محیط ہونی تھی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے طول دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے خلاف فوجی آپریشن غیرمعمولی تیزی سے مکمل ہوا، اب معاہدہ ممکن نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدگی کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ انتہائی ناقص اور خطرناک تھا اور اگر اسے برقرار رکھا جاتا تو ایران چند برس قبل ہی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ انہوں نے اس معاہدے کے خاتمے کو اپنی حکومت کا اہم اقدام قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا