مذاکرات کے پردے میں چھپی جنگ

منگل 3 مارچ 2026
author image

طارق آفاق

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنگ کی پہلی گولی اکثر بارود سے نہیں، بیانیے سے چلتی ہے۔ پہلے خوف تراشا جاتا ہے، پھر خطرہ بلند آواز میں پکارا جاتا ہے، اور آخر میں حملہ ناگزیر قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکی کارروائی بھی اسی ترتیب کی کہانی لگتی ہے۔

یہ کوئی اچانک اٹھایا گیا قدم نہیں تھا۔ یہ فیصلہ وقت کے اندھیرے میں پکتا رہا۔ نقشے بچھے، امکانات تولے گئے، اتحادیوں سے سرگوشیاں ہوئیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے اپنے ارادوں کو سینے سے لگائے رکھا۔ عوام کے سامنے ایک تصویر رکھی گئی کہ ایران پہل کرنے والا ہے، خطرہ سر پر ہے، وقت کم ہے۔

مگر جب پینٹاگون نے کانگریس کے سامنے اعتراف کیا کہ ایران کے پہلے حملے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں تھا تو یوں لگا جیسے دھند میں کھڑا ایک مینار اچانک واضح ہو گیا ہو۔

اگر خطرہ قریب الوقوع نہ تھا تو ہنگامی لہجہ کیوں تھا؟

اگر ثبوت غیر قطعی تھے تو بیان اتنا قطعی کیوں تھا؟

یہ سوال صرف حکمت عملی پر نہیں، صداقت پر بھی اٹھا۔

مذاکرات کا منظر بھی کم معنی خیز نہیں۔ سفارتی میز پر مسکراہٹیں تھیں، کیمرے تھے، الفاظ تھے۔ مگر اسی دوران ایک اور کہانی بھی لکھی جا رہی تھی۔ اندازہ یہ تھا کہ مذاکرات ایران کو مصروف رکھیں گے، قیادت کو منظر عام پر لائیں گے، اور پھر ایک فیصلہ کن ضرب سے سیاسی و عسکری ڈھانچے کو ہلا دیا جائے گا۔ واشنگٹن کو یقین تھا کہ سر قلم ہو جائے تو جسم زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا۔

لیکن ریاستیں محض افراد کے سہارے نہیں کھڑی ہوتیں۔ ان کے پیچھے تاریخ، مزاحمت اور اجتماعی نفسیات ہوتی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کر کے یہ بتا دیا کہ قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر ارادے کو نہیں۔ امریکہ کی وہ خوش فہمی کہ ایران منتشر ہو جائے گا، میدان کی گرد میں تحلیل ہوتی دکھائی دی۔

ایٹمی پروگرام کو جواز بنایا گیا۔ مگر شاید اصل اضطراب کہیں اور تھا۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی، خاص طور پر چین کے تعاون سے حاصل ہونے والی پیش رفت، طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بڑی قوتیں نظریات سے کم اور توازن کی تبدیلی سے زیادہ خوف زدہ ہوتی ہیں۔ جب کوئی ریاست دور مار کرنے لگے تو فاصلہ کم اور بے چینی زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس کشمکش کا سایہ ایران تک محدود نہیں۔ ایک سوال مسلسل پس منظر میں گونجتا ہے: اگر ایران کمزور ہو جاتا تو اگلا نشانہ کون ہوتا؟ اسرائیل کی نظریں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر جمی ہوئی ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کو فعال کردار سے دور رکھنے کے لیے خطے میں ایک اور محاذ گرم رکھا گیا۔

بھارت کے ذریعے مغربی سرحد کی بے چینی، افغانستان کی پیچیدہ بساط، طالبان کی پشت پناہی کے الزامات اور ڈرون سرگرمیاں، سب ایک بڑے منظرنامے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ یوں ایک ملک کو اندرونی الجھنوں میں مصروف رکھ کر اسے بڑے کھیل سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تعریفیں بھی سادہ جملے نہیں لگتیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کبھی دائمی یقین دہانی نہیں ہوتی۔ یہ اکثر ایک توقف ہوتا ہے، ایک وقفہ، ایک وقتی ضرورت۔ طاقت جب رخ بدلتی ہے تو الفاظ بھی بدل جاتے ہیں۔ آج کا اعتماد کل کی تنقید میں ڈھل سکتا ہے۔

موجودہ مرحلے پر امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی غیر متوقع مزاحمت ہے۔ قیادت کو نقصان پہنچا، انفراسٹرکچر متاثر ہوا، مگر جواب بھی آیا۔ خلیجی ممالک کی فضاؤں میں خوف کی نمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں موجود امریکی اڈے براہ راست نشانے پر ہیں۔

اگر دفاعی نظام کی توجہ اسرائیل پر مرکوز ہو جائے تو خلیجی ریاستوں کا عدم تحفظ بڑھنا فطری ہے۔ سعودی اشارے اسی اندیشے کی گواہی دیتے ہیں کہ ہر محاذ پر بیک وقت مکمل دفاع ممکن نہیں۔

جنگ کا ایک اور چہرہ امریکہ کے اندر ہے۔ تابوت جب وطن واپس آتے ہیں تو سوال بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ہلاکتوں کا گراف جتنا اوپر جائے گا، دباؤ بھی اتنا بڑھے گا۔ عوام طویل جنگوں سے پہلے ہی تھکے ہوئے ہیں۔ خلیجی ممالک بھی اپنی سرزمین پر تباہی کی لمبی رات برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگر عرب دنیا کا دباؤ بڑھا تو واشنگٹن کو طاقت کے بجائے سفارت کا راستہ اپنانا پڑ سکتا ہے۔

اور پھر وہ سوال جو ہر بڑی مہم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے:

کیا عسکری قوت سیاسی تبدیلی بھی لا سکے گی؟

ایران کے اندر فوری حکومتی تبدیلی کا خواب ابھی تک تعبیر نہیں پا سکا۔ جنگ اگر طول پکڑتی ہے تو اخراجات صرف مالی نہیں ہوتے، سیاسی اور اخلاقی بھی ہوتے ہیں۔ طاقت کا غرور اکثر وقت کے ساتھ تھک جاتا ہے۔

اگر مقاصد حاصل نہ ہوئے تو یہ مہم تاریخ میں ایک ایسے تجربے کے طور پر درج ہو سکتی ہے جس میں قوت تو بے پناہ تھی، مگر نتیجہ کمزور۔

خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر نہیں، مفروضوں کے ڈھیر پر بھی کھڑا ہے۔ ہر فریق خود کو درست سمجھتا ہے، ہر بیانیہ خود کو مکمل سچ قرار دیتا ہے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ بیانات سے نہیں، نتائج سے ہوتا ہے۔

شاید اصل امتحان ابھی باقی ہے۔

یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی، یہ اعتماد، صداقت اور طاقت کی حدوں کے بارے میں بھی ہے۔ اور جب دھواں چھٹے گا تو صرف تباہ شدہ عمارتیں نہیں، کئی دعوے بھی ملبے میں دبے ملیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کون سے 6 پاکستانی کرکٹرز ’ہنڈریڈ‘ کے ٹاپ 50 ہیرو لسٹ میں شامل ہیں؟

سعودی عرب ہماری ریڈ لائن، پاکستان کا ایران کو واضح پیغام، اسحاق ڈار کا بیان سعودی اکاؤنٹس پر وائرل

مشرق وسطیٰ میں تناؤ کے باعث ڈھاکا سے 25 پروازیں منسوخ

چین کا امریکا سے ’ریڈ لائنز‘ برقرار رکھتے ہوئے رابطوں کے فروغ کا عندیہ

راولپنڈی: اب بغیر ہیمٹ سفر کرنے والے بائیکرز کا چالان نہیں ہوگا

ویڈیو

“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”

سوری کافی نہیں، سچی معافی کا صحیح طریقہ سیکھیں

فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کی ایران امریکا مذاکرات کی کوشش، ٹرمپ کا دنیا کو دھوکا، پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے

کالم / تجزیہ

پاکستان کی طالبان مخالف پالیسی، امر اللہ صالح بھی تعریف پر مجبور

سعودی عرب اور ذمہ دار علاقائی سیاست

یہ دنیا اب ٹرمپ کی دنیا ہے