ایران نے دوبئی میں امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔ فجیرہ کی بندرگاہ پر بھی میزائل یا ڈرون حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملہ کیا گیا ہے، حملہ اس وقت کیا گیا جب 160 فوجی ایک جگہ پر جمع تھے، جن میں سے 100ہلاک اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے۔
دوسری طرف امریکا اور اسرائیل نے ایران پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ تازہ کارروائی میں ایران کے شہر قم میں مجلسِ خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قم جیسے مذہبی اور سیاسی لحاظ سے حساس شہر میں حملہ ایران کے لیے ایک علامتی اور اسٹریٹجک دھچکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 787 افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) یا پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔
آئی آر جی سی بحریہ کے اہلکار محمد اکبر زادہ نے ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ آبی گزرگاہ پر ایران کی بحریہ کا مکمل کنٹرول قائم ہے۔
دوسری طرف سابق امریکی صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئل ٹینکروں کے تحفظ کے لیے امریکی بحریہ تعینات کی جاسکتی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین آبائی شہر مشہد میں ہوگی
ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے منگل کے روز یہ اطلاع دی، تاہم تدفین کی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
وہ 36 برس تک ایران کے سپریم لیڈر رہے اور ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت سنبھالتے رہے۔
خامنہ ای کا تعلق مشہد سے تھا، جو ایران کا دوسرا بڑا شہر ہے، اور ان کے والد کی تدفین بھی امام رضا کے مزار پر ہے۔

تدفین سے قبل دارالحکومت تہران میں ایک ’بڑی الوداعی تقریب‘ منعقد کی جائے گی۔ یہ اعلان پاسدارانِ انقلاب یعنی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر کیا۔
خامنہ ای کی وفات کے بعد ملک کا اقتدار عارضی طور پر 3 رکنی عبوری کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو اس وقت تک ذمہ داریاں انجام دے گی جب تک مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کا انتخاب نہیں کر لیتی۔
اس کونسل میں صدر، عدلیہ کے سربراہ اور شورائے نگہبان کے ایک فقیہ شامل ہیں، شورائے نگہبان قانون سازی کی نگرانی اور انتخابی امیدواروں کی جانچ پڑتال کا ذمہ دار ادارہ ہے۔
فارس نیوز ایجنسی نے ایک سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ’سیکیورٹی وجوہات‘ کے باعث مجلس خبرگان کا حتمی اجلاس آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق منگل کو تہران کے جنوب میں واقع مقدس شہر قم میں مجلس خبرگان کی 88 رکنی عمارت کو بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ تہران میں واقع اس کا مرکزی ہیڈکوارٹر بھی ایک روز قبل حملے کی زد میں آ چکا تھا۔
کویت میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کردی گئی
ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران کویت کے شہر پورٹ شعیبہ میں ایک کمانڈ سینٹر پر ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے۔
امریکی حکام کے مطابق بغیر پائلٹ طیارہ نظام فضائی دفاع کو چکمہ دے کر ہدف تک پہنچا۔ ابتدائی طور پر 3 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں زخمی فوجی کے دم توڑنے اور ملبے سے مزید لاشیں ملنے پر تعداد 6 ہو گئی۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایک طاقتور ہتھیار نے مضبوط حفاظتی انتظامات والے ٹیکٹیکل آپریشنز سینٹر کو نشانہ بنایا۔ یہ ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد امریکی فوج کی جانب سے تصدیق شدہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔
امریکی فوج نے 4 ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر کی، جن میں یو ایس آرمی ریزرو کے کیپٹن کوڈی خورک (35)، سارجنٹ نوح ٹیٹجنس (42)، سارجنٹ نکول امور (39) اور سارجنٹ ڈیکلین کوڈی (20) شامل ہیں۔
’وعدہ صادق 4’ کے پہلے 2 دنوں میں 650 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، پاسداران انقلاب کا دعویٰ
ایران کی اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جوابی عسکری آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کے پہلے 2 دنوں میں 650 سے زائد امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ میں شائع شدہ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری حملوں کے جواب میں کی گئیں، جن میں خطے بھر میں امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نیانی کے مطابق ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر کو متعدد بار نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ایک حملے میں 160 امریکی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے جب ایک اہم امریکی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔
اسی طرح امریکی بحریہ کے ایم ایس ٹی (MST) جنگی معاونت جہاز کو بھی ایرانی بحری میزائلوں سے شدید نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق ایرانی بحری افواج نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن پر 4 کروز میزائل داغے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جہاز ایران کے جنوب مشرقی شہر چاہ بہار کے ساحل سے تقریباً 250 سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق حملوں کے بعد یہ طیارہ بردار جہاز ’جنوب مشرقی بحرِ ہند کی جانب پسپا ہو گیا‘۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تنصیبات کو ’بھاری نقصانات‘ پہنچائے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل نعینی نے کہا کہ امریکا کے لیے ان نقصانات کو تسلیم کرنا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن ایرانی انٹیلی جنس اور میدانِ جنگ کی رپورٹس ان اعداد و شمار کی تصدیق کرتی ہیں۔
ایران کے مطابق ’وعدہ صادق 4‘ جاری تنازع میں ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خلیجی خطے میں طاقت کے توازن کو بدل سکتا ہے۔ تاہم فی الحال امریکی حکام کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دبئی میں 100 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے خلیجی خطے میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں پر بڑے حملے کیے ہیں، جن میں دبئی میں کیا گیا ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں 100 سے زائد امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائیاں ایک وسیع جوابی مہم کا حصہ ہیں۔
ایرانی عسکری قیادت کے ترجمان ادارے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
بیان میں بتایا گیا کہ امریکی اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ ایرانی عہدیدار شہید ہو گئے، جس کے بعد ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
ایرانی حکام کے مطابق کویت میں تعینات امریکی افواج کو بھی بڑی تعداد میں ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ’ہم نے کویت میں امریکی پیادہ فوج کو درجنوں تباہ کن ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔‘
اسی طرح بحرین میں موجود ایک اور امریکی تنصیب کو بھی ہدف بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج کے میدانِ جنگ سے دور ایک امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
پاسداران انقلاب کے بیان کے مطابق یہ کارروائی ایرانی بحری یونٹس نے انجام دی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات یا آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ایران کی خلیجی ممالک پر اندھا دھند بمباری غلط حکمتِ عملی، ترک وزیر خارجہ
ترکیہ کے وزیر خارنہ حاکان فیدان نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ممالک پر ایران کی بلا امتیاز بمباری ایک ’انتہائی غلط حکمتِ عملی‘ ہے۔
ریاستی ٹی وی چینل ٹی آر ٹی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں حاکان فیدان نے کہا
’ایران کی جانب سے عمان، قطر، کویت، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن جیسے عرب ممالک پر بلا تفریق بمباری میری رائے میں ناقابلِ یقین حد تک غلط حکمتِ عملی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرزِ عمل سے خطے میں خطرات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور خود ایران کے مفاد میں بھی یہ ایک بڑی غلطی ہے۔
ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے امریکی اتحادی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ خلیجی ریاستیں عالمی توانائی منڈی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
منگل کے روز خلیجی ممالک میں تیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
قطر کی سرکاری توانائی کمپنی نے 2 تنصیبات پر حملوں کے بعد بعض اہم مواد کی پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔
اگرچہ مکمل نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر توانائی کے مراکز مسلسل نشانہ بنتے رہے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ترکیہ کی جانب سے ایرانی حکمت عملی پر کھل کر تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔
انقرہ کا مؤقف اشارہ دیتا ہے کہ خطے کے کئی ممالک ایران کی موجودہ حکمتِ عملی کو خطرناک سمجھ رہے ہیں، جو نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معاشی استحکام کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے۔
جنگ طول پکڑ گئی تو فائدہ ایران کو ہوگا، ماہرین
سیاسی تجزیہ کار اور جدال ٹی وی کے میزبان علی علیزادہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ طویل ہو گئی تو اس کا فائدہ ایران کو ہو سکتا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی علیزاده نے کہا کہ ایران کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے ایسے وسائل موجود ہیں جو امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ پائیدار ثابت ہو سکتے ہیں۔
علی علیزاده کے مطابق ایران کی دفاعی حکمتِ عملی مغربی طرز کے مہنگے فضائی دفاعی نظاموں کے برعکس کم لاگت اور مقامی سطح پر تیار کردہ ہتھیاروں پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا ’ایرانی دفاعی حکمتِ عملی گھریلو سطح پر تیار کیے گئے، انتہائی سستے میزائلوں اور ڈرونز پر مشتمل ہے، جو مغربی فضائی دفاعی نظاموں کے مقابلے میں بہت کم لاگت رکھتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو ایران کو معاشی اور عسکری اعتبار سے برتری حاصل ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ نسبتاً کم وسائل خرچ کر کے زیادہ دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔
علی علیزاده نے گزشتہ سال جون میں ہونے والی اسرائیل امریکا کی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر گزرتا دن اسرائیلی عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کرتا ہے۔
ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ طویل تنازع اسرائیلی شہریوں پر نفسیاتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔
تجزیہ کار نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے پاس فضائی حملوں کو روکنے والے اینٹی ایئر یا انٹرسیپٹر میزائل کم پڑ گئے تو کیا وہ اس کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں گے؟
ان کے مطابق دفاعی نظام برقرار رکھنا مہنگا عمل ہے، اور مسلسل حملوں کی صورت میں ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔
علی علیزاده نے اس بڑھتی ہوئی رائے کی بھی تائید کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کی جانب سے اس جنگ میں دھکیلا گیا، اور وہ ایرانی حکومت کی مزاحمتی صلاحیت کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے کہا ’ایرانی ریاست انتہائی مضبوط، لچکدار اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ایک مشترکہ جنگ ہے جو ٹرمپ پر مسلط کی گئی، اور اب وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ خود کو ایک مشکل صورتحال میں لے آئے ہیں۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع میں صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ وقت بھی ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔
اگر جنگ مختصر رہی تو امریکا اور اسرائیل اپنی تکنیکی برتری استعمال کر سکتے ہیں، لیکن اگر یہ طویل ہو گئی تو کم لاگت جنگی حکمتِ عملی اپنانے والا فریق زیادہ فائدے میں رہ سکتا ہے۔
آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع محدود رہے گا یا ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ کی صورت اختیار کرے گا۔
ٹرمپ کا مؤقف وزیر خارجہ سے مختلف، ایران پر حملے کی نئی وجہ سامنے آگئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اپنے ہی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیان سے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی افواج کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملوں کا حکم اس لیے دیا کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تہران پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
اس کے برعکس وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس جنگ کے آغاز کے لیے ایک مختلف حکمتِ عملی اور جواز پیش کیا تھا، جس سے امریکی قیادت کے اندر پالیسی اختلافات کی جھلک سامنے آئی ہے۔
آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان، عالمی منڈی میں ہلچل
ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔
اس اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں معاشی اور توانائی بحران کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
عراق میں تیل کی پیداوار متاثر
عراق نے رومیلہ آئل فیلڈ میں تیل کی پیداوار سست یا عارضی طور پر روک دی ہے۔ اسی طرح مغربی قرانا 2 منصوبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ یہ دونوں منصوبے عالمی تیل منڈی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی بندش سے عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی بحریہ کی تعیناتی کا عندیہ
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی حفاظت کے لیے اپنی بحریہ تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس اہم سمندری راستے کو بند نہیں ہونے دیں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ ٹینکروں کو بحفاظت گزارنے کے لیے مکمل کارروائی کرے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر امریکی بحریہ براہِ راست آبنائے ہرمز میں متحرک ہوئی تو خطے میں تصادم مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ صورتحال ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی، عالمی برادری تشویش میں مبتلا
مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ توانائی کی فراہمی، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی سب خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں۔













