ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عبوری قیادت کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پڑوسی ممالک پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے، جب تک کہ ایران پر حملہ انہی ممالک سے نہ کیا جائے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے گزشتہ دنوں ہونے والے حملوں کے لیے پڑوسی ممالک سے معافی بھی مانگی ہے اور کہا کہ مستقبل میں ایران صرف اپنے دفاع کے لیے کارروائی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کا آٹھواں روز: ایران کے اسرائیل پر جوابی حملے جاری، اسرائیل کا 80 لڑاکا طیاروں سے ایران پر بمباری کا دعویٰ
دوسری جانب عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حسام زکی نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اتوار کو ہنگامی اجلاس کریں گے تاکہ کئی عرب ممالک کی حدود پر ایرانی حملوں پر غور کیا جا سکے۔
🚨 BREAKING: Masoud Pezeshkian says the temporary leadership council has decided not to target neighboring countries unless Iran is attacked from their territory.
— The Middle East (@A_M_R_M1) March 7, 2026
حسام زکی کے مطابق یہ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگا اور اس کی درخواست کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، اردن اور مصر نے دی ہے۔ اجلاس میں ایران کی حالیہ کارروائیوں کے اثرات اور ان کے تدارک کے اقدامات پر بات چیت متوقع ہے۔
Iran takes moral high ground with this
Ball now in court of its Gulf neighbours
👇🏽
A major step towards de-escalation as Iran’s President announces that there will no longer be any missile or drone strikes against neighbouring countries as long as no attack is launched from… pic.twitter.com/THcdWPSLMk
— omar r quraishi (@omar_quraishi) March 7, 2026
واضح رہے کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کا آج آٹھواں روز ہے، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ رات بھر ایران میں فضائی کارروائی کی گئی جس میں 80 سے زائد جنگی طیارے حصہ لے رہے تھے اور انہوں نے 230 ہتھیار مختلف فوجی مقامات پر گرائے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ان اہداف میں ایرانی پاسداران انقلاب کی فوجی یونیورسٹی، لانچنگ کے انفراسٹرکچر والا اسٹوریج سائٹ اور بیلسٹک میزائل کی تیاری و ذخیرہ کرنے کی زیر زمین جگہ شامل تھی۔













