امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالے بغیر کسی معاہدے پر بات نہیں ہوگی، جس کے جواب میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ممالک ایران کو سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی خواہش اپنے ساتھ قبر تک لے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: پڑوسی ممالک سے حملہ نہ ہو تو ایران انہیں ہدف نہیں بنائے گا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا اعلان
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر ہنگامی خطاب میں کہاکہ ایران نے پڑوسی ممالک پر کیے گئے حملوں کے لیے معافی مانگی ہے اور اب وہ کسی ہمسایہ ملک پر مزید حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے واضح کیاکہ ماضی کے حملے دفاعی نوعیت کے تھے اور ان کا ہدف پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات تھے۔
صدر پزیشکیان نے کہاکہ ایران خطے میں کشیدگی کو فروغ نہیں دینا چاہتا، لیکن اگر اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنا دفاع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے مخالفین کو خبردار کیا کہ دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکانا ممکن نہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جس میں آیت اللہ خامنہ ای، وزیر دفاع، آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور قومی سلامتی کے مشیر شہید ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی وزیر دفاع سے اہم ملاقات
جواباً ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے، جن میں چھ سے زائد امریکی فوجی ہلاک، متعدد زخمی اور بھاری مالی نقصان ہوا، تاہم اس پر خطے کے کئی ممالک نے ایران پر شدید تنقید کی ہے۔













