مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں کن اشیا کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی حالات اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی تجارت میں تعطل پیدا ہونے سے پاکستان کی برآمدات بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ چونکہ پاکستان سے مختلف ممالک کو گوشت، چاول، ٹیکسٹائل سے منسلک گڈز اور دیگر زرعی و غذائی مصنوعات بڑی مقدار میں برآمد کی جاتی ہیں، اس لیے ایکسپورٹ کی سرگرمیوں میں اچانک رکاوٹ مقامی منڈیوں پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

واضح رہے کہ بیرونی منڈیوں تک رسائی محدود ہونے کی وجہ سے وہ اشیا جو عام حالات میں بیرونِ ملک بھیجی جاتی تھیں، مقامی مارکیٹ میں زیادہ مقدار میں دستیاب ہونے لگتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران سے آنے والی اشیا مہنگی، سرحدی تجارت بھی متاثر ہونے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق اگر برآمدات طویل عرصے تک متاثر رہیں تو پاکستان کے اندر ان اشیا کی سپلائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی منڈیوں میں قیمتوں پر دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔ بالخصوص گوشت، چاول اور سی فوڈ جیسی مصنوعات، جو بڑی حد تک برآمدی منڈیوں پر انحصار کرتی ہیں، ان کی مقامی سطح پر رسد بڑھنے سے قیمتوں میں عارضی کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

چاول کی مارکیٹ میں اس وقت کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، حسیب علی

وائس چیئرمین رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان حسیب علی خان نے کہاکہ پاکستان کی چاول کی مارکیٹ میں اس وقت کافی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مجموعی طور پر مارکیٹ کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہو چکی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر جاری جنگیں اور پیدا شدہ حالات ہیں۔

ان کے مطابق اس کے اثرات نہ صرف بین الاقوامی مارکیٹ میں ہو رہے ہیں، بلکہ ملکی داخلی مارکیٹ پر بھی واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ چونکہ پاکستان میں پیدا ہونے والا چاول زیادہ تر برآمد کے لیے ہوتا ہے اور مقامی سطح پر استعمال نسبتاً کم ہے، اس لیے جب برآمدات متاثر ہوتی ہیں تو قیمتوں میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ فی الحال باسمتی چاول کی قیمت مارکیٹ میں قریباً 20 روپے فی کلو کم ہو چکی ہے، اور مستقبل قریب میں یہ کمی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

مارکیٹ کا موجودہ رجحان عالمی حالات اور داخلی پیداواری صورتحال کے مشترکہ اثرات کی عکاسی کررہا ہے، جو قیمتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

آلو کے ریٹ میں کمی کسانوں کے آزمائش ہے، عبدالحمید خان

اسلام آباد سبزی منڈی میں آلو کے کاروبار سے وابستہ عبدالحمید خان کا کہنا تھا کہ آلو کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔ چند مہینے پہلے تک جہاں فی کلو آلو منڈی میں قریباً 75 سے 80 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ جس کے بعد 2 ہفتے قبل تک 30 روپے اور اب وہی آلو قریباً 19 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جو حالات اس وقت چل رہے ہیں اس کے بعد تو یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آلو کی قیمت میں مزید کمی بھی ہو سکتی ہے، مگر یہ ریٹ پاکستانی کسانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش ثابت ہو رہا ہے۔

گوشت کی قیمت میں بڑی کمی متوقع

راولپنڈی میٹ ایسوسی ایشن کے ممبر کامران قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مٹن اور بیف کی ایک بڑی مقدار عرب ممالک بھجوائی جاتی ہے، اور جنگی صورتحال کے باعث گوشت کی برآمدات رک گئی ہیں، جس سے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے باعث مقامی مارکیٹ میں گوشت کی فراہمی بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے گوشت کی قیمتوں میں کمی بھی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر بکرے کے گوشت کی قیمت میں فی کلو قریباً 800 روپے اور بیف میں قریباً 500 روپے کمی آ سکتی ہے۔

چاول، آلو، ٹماٹر اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں، راجا کامران

ماہرِ معیشت راجا کامران کے مطابق ملک میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث اگر برآمدات عارضی طور پر بند ہیں جس کے مقامی مارکیٹ پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق جب کسی ملک کی برآمدات رک جاتی ہیں تو وہ اشیا جو عام طور پر بیرونِ ملک بھیجی جاتی ہیں، وہ زیادہ مقدار میں مقامی منڈیوں میں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ اس اضافی رسد کی وجہ سے ان اشیا کی قیمتوں میں کمی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

راجا کامران کے مطابق پاکستان سے بڑی مقدار میں برآمد کی جانے والی اشیا میں سب سے نمایاں چاول، آلو، ٹماٹر اور دیگر زرعی اجناس شامل ہیں۔ اگر جنگی صورتحال کے باعث ان اشیا کی ایکسپورٹ محدود ہو جاتی ہے تو یہ مصنوعات مقامی مارکیٹ میں زیادہ دستیاب ہوں گی، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: اشرافیہ معاشی بوجھ برداشت کرکے مثال قائم کرے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے مزید کہاکہ پھلوں خصوصاً آم، کینو اور دیگر موسمی پھلوں کی قیمتوں میں بھی کمی کا امکان ہوتا ہے کیونکہ پاکستان ان پھلوں کی بڑی مقدار بیرونِ ملک برآمد کرتا ہے۔ اسی طرح سمندری خوراک (مچھلی اور جھینگے) جو عام طور پر خلیجی ممالک اور دیگر عالمی منڈیوں کو بھیجے جاتے ہیں، اگر ایکسپورٹ نہ ہو سکیں تو مقامی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں نسبتاً کم ہو سکتی ہیں۔

راجا کامران کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض اشیا کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے، تاہم مجموعی معیشت پر ایکسپورٹس کی بندش منفی اثر ڈالتی ہے کیونکہ اس سے زرِ مبادلہ کی آمد کم ہو جاتی ہے، صنعتوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور روزگار کے مواقع بھی محدود ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

پاکستان میں مقیم امریکی شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ جاری

جی 7 ممالک کا اہم فیصلہ، خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی

ہمارے پاس ابھی کئی سرپرائزز باقی ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو انتباہ

ویڈیو

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

ڈی بال کی راتیں: رمضان المبارک میں لیاری کی گلیوں کی رونق

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان