ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث پاکستان میں زندگی بچانے والی ادویات، بچوں کے فارمولا دودھ، ویکسینز اور ادویات بنانے کے خام مال کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کی معطلی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
درآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوگئی تو پاکستان میں ادویات اور ویکسینز کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی غیر سرکاری طور پر بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، جس سے شہریوں پر مزید معاشی دباؤ پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
ماہرین کے مطابق آزادی کے دہائیوں بعد بھی پاکستان ادویات کے خام مال کی مقامی پیداوار شروع نہیں کرسکا۔ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث دبئی کے راستے آنے والے خام مال کی ترسیل بھی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں دواسازی کے خام مال کا ذخیرہ تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ کے لیے کافی بتایا جا رہا ہے۔
پاکستان ہول سیل کیمسٹس کونسل کے صدر محمد عاطف حنیف بلوچ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل غیر سرکاری اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو کینسر، ذیابیطس، انسولین اور دل کے امراض کی ادویات سمیت تقریباً تمام دواؤں کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ بچوں کے فارمولا دودھ کی قلت کا بھی خطرہ ہے کیونکہ یہ زیادہ تر درآمد کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بدھانی کے مطابق اس وقت دواسازی کے خام مال کا تقریباً 55 سے 60 فیصد بھارت جبکہ 40 سے 45 فیصد چین سے درآمد کیا جاتا ہے، اور جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔














