پولش میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی اور پولینڈ کی افواج روس اور بیلاروس کے خلاف روایتی اور جوہری حملوں کی مشقوں کی تیاری کر رہی ہیں، جس سے یورپ میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مشترکہ فوجی مشقیں جلد بحیرہ بالٹک اور شمالی پولینڈ میں متوقع ہیں، جن کا مقصد مبینہ روسی خطرے کے پیش نظر فرانس اور پولینڈ کے درمیان نیٹو سے ہٹ کر عسکری تعاون کو فروغ دینا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو روسی مارکیٹ تک رسائی، سی فوڈ ایکسپورٹ میں بڑی پیش رفت
منصوبے کے تحت پولینڈ کے ایف 16 طیارے طویل فاصلے تک نگرانی اور اہداف کی نشاندہی کریں گے، جبکہ جدید کروز میزائلوں کے ذریعے سینٹ پیٹرزبرگ کے قریب اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی مشق کی جائے گی۔
دوسری جانب فرانسیسی رافیل طیارے، جو جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، روس اور بیلاروس میں فرضی جوہری حملوں کی مشق کریں گے۔
یہ مشقیں مبینہ طور پر فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک کی حالیہ ملاقات کے دوران زیر غور آئیں، اور انہیں یورپ میں فرانس کی جوہری چھتری کو وسعت دینے کی کوشش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
روس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا کسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اور نیٹو پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ردعمل میں کہا کہ ایسی مشقیں یورپ میں مزید عسکریت اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی علامت ہیں اور یہ اقدامات استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
روسی نائب وزیر خارجہ الیگزینڈر گروشکو کے مطابق برطانیہ کی قیادت میں جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورسز روس کے علاقے کالینن گراڈ کے بحری محاصرے اور قبضے کی مشقیں بھی کر رہی ہیں، جو محاذ آرائی کو بڑھانے کا اشارہ ہے۔
مزید پڑھیں: روسی دارالحکومت ماسکو کے ایئرپورٹ پر 40 اسرائیلی مسافر زیر حراست
دوسری جانب فن لینڈ کی پارلیمنٹ میں ایک بل زیر غور ہے جس کے تحت ملک میں جوہری ہتھیاروں کی درآمد اور ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ روس نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم اس کے لیے براہ راست خطرہ ہوگا اور اس کے جواب میں اقدامات کیے جائیں گے۔
روسی حکام کے مطابق اگر فن لینڈ میں جوہری ہتھیار تعینات کیے گئے تو وہاں کی عسکری تنصیبات روسی دفاعی حکمت عملی کے اولین اہداف میں شامل ہو جائیں گی، جس سے خطے کی سکیورٹی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔














