ایک عمومی نگاہ سے لمحۂ موجود میں دنیا کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے یہ دنیا اب امریکا کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہو چکی ہے۔ اب اختلاف کی گنجائش ہے نہ انحراف کی۔ کوئی ٹرمپ کی بدمست طاقت کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں۔ کسی جانب سے کوئی حرفِ انکار نہیں۔ نہ روس امریکی طاقت سے ٹکرا رہا ہے، نہ چین اس جنگ میں کود رہا ہے، نہ یورپی یونین کا حوصلہ پڑ رہا ہے، نہ برطانیہ میں انکار کی جرات ہے، نہ مسلم امہ کا اتحاد رکاوٹ بن رہا ہے، نہ اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی قرارداد آ رہی ہے، نہ ورلڈ بینک امریکا پر کوئی پابندیاں لگا رہا ہے، نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز اٹھا رہی ہیں، نہ سرحدوں کا احترام باقی ہے، نہ ممالک کا وجود معنی رکھتا ہے، نہ مظلوم ممالک کی قیادت کچھ کر پا رہی ہے، نہ ان کے عوام کی بے بسی پر کسی کو ترس آ رہا ہے۔
لگتا ہے دنیا کا انتظام ٹرمپ نامی ایک آمرانہ قیادت کے حوالے کر کے سب نے آنکھیں موند لیں، ریت میں سر دے دیا ہے۔ کوئی بھی دنیا کے ضمیر کو آج کل جھنجھوڑنے کی جرات نہیں کر رہا ۔ ایک سو اکسٹھ نوعمر بچیوں کے جنازے دیکھ کر بھی دنیا کے لب سلے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کسی ملک کے سربراہ کو سرعام شہید کرنے والے اب دنیا کو انسانی حقوق کا درس دے رہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرنے والے اپنے آپ کو معصوم بتا رہے ہیں۔ جو ہتھیار عراق میں تلاش کرنے کے بہانے عراق برباد کیا گیا، اب انہی ہتھیاروں کی تلاش میں ایران کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ صیہونی درندگی کے پنجے پوری دنیا پر گاڑے جا رہے ہیں۔ فرعونیت اس عہد میں عود کر سامنے آ رہی ہے۔ ظالم، مظلوم کے لبادے میں رقص کر رہا ہے۔
ایسا دنیا میں پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ نمرود، شداد، فرعون سب ہی اسی زعم میں رہے۔ سب کو یہی گمان تھا کہ وہ اٹل ہیں، حتمی ہیں۔ ان کے بغیر دنیا کا وجود ہے نہ بنی نوع انسان کے کوئی معنی۔ نہ مظلوم کی بددعا انہیں لگ سکتی ہے، نہ محروم کی سسکیاں ان کے رستے میں حائل ہو سکتی ہیں۔ وہی اول و آخر ہیں، وہی لازم و ملزوم ہیں۔ وہی دنیا کی راہِ نجات ہیں، وہی دنیا کا سب سے بڑا اثبات ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب روس بھی یہی سمجھتا تھا۔ اسی سوچ کے ساتھ اس نے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ گرم پانیوں تک پہنچنے کی اسے جلدی تھی۔ اسے ادراک ہی نہیں رہا کہ یہ جنگ اس کی آخری جنگ ثابت ہو گی۔ اس کے بعد روس کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ قدرت کو ایک کمزور ملک کے ہاتھوں سپرپاور کی شکست کا تماشا دنیا کو دکھانا مقصود تھا۔ افغانستان کے پہاڑ پاکستانیوں اور امریکیوں کی مدد سے روسیوں کے قبرستان بن گئے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ریت کا ڈھیر ہو گئی اور اس ڈھیر میں یو ایس ایس آر دفن ہو گیا۔
ابھی بھی یہی ہو رہا ہے۔ امریکا ایران کو تر نوالہ سمجھ رہا ہے۔ جب چاہتا ہے جس مرضی کو قتل کر دیتا ہے۔ اپنی انٹیلیجنس اور ایران کی صفوں میں چھپے غداروں کی مدد سے تاک تاک کر حملے کرتا ہے۔ پوری عسکری قیادت کے چیتھڑے اڑا دیتا ہے۔ زمین میں چھپے لوگوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ کبھی بچیوں کے اسکولوں پر حملہ، کبھی بازاروں پر بمباری، کبھی نہتے شہریوں پر گولہ باری، کبھی تاریخی اثاثوں پر میزائل باری۔ یہ سب کچھ سرعام ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کچھ ڈھکا چھپا نہیں، نہ امریکا کے ارادے نہ امریکا کا استبداد۔
اگر موقع ملے تو ٹکر کارلسن کو سنیں۔ امریکی صحافی جو سی این این اور فوکس نیوز جیسے اداروں میں رہ چکا ہے۔ جو کسی وقت میں امریکا کا سب سے زیادہ ریٹنگ لینے والا اینکر رہا ہے، جس کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔ امریکا کی ایران پر چڑھائی کے بعد یو ٹیوب پر اس کے وی لاگ بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ وہ دو، دو گھنٹے کے وی لاگ میں دنیا کو یہ باور کروا رہا ہے کہ جنگ امریکا اور ایران کی نہیں، یہ دو مذاہب کی جنگ ہے۔ وہ بار بار ’آرماگیڈن‘ کا ذکر کر رہا ہے جسے عبرانی زبان میں ’حق و باطل کا آخری معرکہ‘ بھی کہا گیا ہے۔
وہ کہتا ہے کہ اس منصوبے کا جال اسرائیل نے بچھایا ہے۔ ابھی جو حملے خلیجی ممالک پر ہو رہے ہیں، اس کے پیچھے بھی ایران نہیں بلکہ صیہونی سازش ہے۔ ان کا ایک ’ربی‘ سرعام لوگوں کو بتا رہا ہے کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ایران کا میزائل غلطی سے بیت المقدس میں جا گرے۔ اس پر خلیجی ممالک اور ایران میں جنگ چھڑے اور جب یہ دونوں کمزور پڑ جائیں تو پھر اسرائیل کی جانب سے آخری معرکہ ہو۔
امریکا اپنے زعم میں دنوں میں ایران کو فتح کرنا چاہتا تھا مگر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پا رہا۔ ایران کی جنگ امریکا کے لیے دلدل بنتی جا رہی ہے۔ امریکا میں کساد بازاری بڑھ گئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی ریٹنگ کم ہو گئی ہے۔ امریکا کے اندر سے اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان کا ہر روز اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکا اپنے کھودے گڑھے میں گرتا جائے گا۔ ظالم کو اپنے ظلم کی سزا اپنی ہی تخلیق کردہ دلدل میں مل جائے گی۔ اور یہ جنگ امریکا کی آخری جنگ ثابت ہو۔ اس کے بعد مسلم امہ کا نام تو زندہ رہے گا، امریکا کا بیڑا ڈوب جائے گا۔
حق و باطل کا قصہ بہت پرانا ہے۔ ظالم اور مظلوم کی کہانی بہت پرانی ہے۔ جابر اور مجبور کی داستان نئی نہیں ہے۔ اس کو لاکھوں سال گزر گئے۔ جب سے انسان کا اس روئے زمین پر وجود ہے یہی کہانیاں دہرائی جا رہی ہیں۔ کہانی وہی مگر کردار بدلتے جاتے ہیں۔ کبھی یہ فرعون کہلاتے ہیں اور کبھی ٹرمپ کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔
ساری انسانی تاریخ کو چھان لیں، نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ کوئی انسان فیصلہ کن نہیں، فیصلہ کن وہی ہے جو ’کن‘ کہتا ہے۔ وہی مظلوم کا ساتھ نبھاتا ہے، وہی ننھی بچیوں کی قبروں کا حساب لیتا ہے۔ وہی جواب مانگتا ہے۔ اس کی اپنی عدالت ہے، اس کے اپنے فیصلے ہیں۔ لیکن سبق یہی ہے کہ ہر فرعون کا انجام بھیانک ہوتا ہے۔ کوئی لازوال نہیں رہتا۔ لازوال وہی ہے جو ایک ہے، جو خدا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔












