اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کے روز اہم پالیسی شرح سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے پیش نظر پاکستان میں کن اشیا کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر ہی برقرار رکھا جائے۔ بینک کے مطابق اس فیصلے کی تفصیلی وضاحت پر مبنی بیان جلد جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے سنہ 2024 کے وسط سے اب تک شرح سود میں مجموعی طور پر 1150 بیسس پوائنٹس کی کمی کی ہے۔ سنہ 2023 میں شرح سود ریکارڈ 22 فیصد تک پہنچ گئی تھی تاہم مہنگائی میں نمایاں کمی کے بعد اسے بتدریج کم کیا گیا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جو عالمی تیل سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی زیادہ تر ضروریات درآمد کرتا ہے اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کا براہ راست اثر ملک میں مہنگائی پر پڑتا ہے۔
مزید پڑھیے: شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار، اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
گزشتہ جمعہ کو وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کیا تھا۔ حکومت کے مطابق یہ اضافہ ایران سے متعلق تنازع کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کیا گیا۔
جائزے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 266.17 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 321.17 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 280.86 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 335.86 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معیشت 3.75 سے 4.75 فیصد تک ترقی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس میں گھریلو طلب میں بہتری اور پہلے کیے گئے مالیاتی اقدامات معاون ثابت ہوں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مہنگائی عارضی طور پر مرکزی بینک کے مقررہ ہدف 5 سے 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، جس کے بعد دوبارہ کم ہونے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں کمی کا اعلان کردیا
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام میں شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے حکومت اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے اور بیرونی مالیاتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے سخت اور محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھیں۔














