5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی، تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ کی دستیابی میں کتنا موثر ثابت ہوگا؟

منگل 10 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کا دن یعنی 10 مارچ پاکستان کی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ایک اہم دن شمار ہوگا کیونکہ آج ملک میں بالآخر 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی ہورہی ہے۔

طویل تاخیر اور کئی بار موخر ہونے کے بعد یہ عمل پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

ملک میں 5جی سروس متعارف کرانے کی تیاری کئی برسوں سے جاری تھی، حکومتی سطح پر پہلی بار باقاعدہ طور پر 2022 میں 5جی اسپیکٹرم کی جلد نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس وقت کی حکومت نے ابتدائی ہدف دسمبر 2022 مقرر کیا تھا، تاہم مختلف انتظامی اور پالیسی مسائل کے باعث یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم نیلامی کا آغاز، تیز رفتار انٹرنیٹ کی راہ ہموار

بعد ازاں 2023 میں دوبارہ اعلان کیا گیا کہ جولائی 2023 تک 5جی کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، مگر یہ ڈیڈ لائن بھی پوری نہ ہو سکی۔

اسی طرح اگست 2024 میں نگران حکومت کے دوران بھی 5جی متعارف کرانے کا عندیہ دیا گیا، لیکن اس حوالے سے عملی پیش رفت نہ ہو سکی اور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو گیا۔

حکومتی حکام کے مطابق تاخیر کی بڑی وجوہات میں اسپیکٹرم سے متعلق قانونی تنازعات، پالیسی منظوری میں تاخیر اور ٹیلی کام سیکٹر کے کچھ مالی و ریگولیٹری مسائل شامل رہے۔

خاص طور پر 2600 میگا ہرٹز بینڈ کے ایک بڑے حصے پر قانونی مقدمات کے باعث نیلامی ممکن نہیں تھی، جس کی وجہ سے منصوبہ کئی مرتبہ موخر کرنا پڑا۔

اس کے علاوہ حکومت کو ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں، لائسنس شرائط اور مارکیٹ کی تیاری کے حوالے سے بھی مشاورت درکار تھی۔

اسی مقصد کے لیے 2024 میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم کی خدمات بھی حاصل کی گئیں تاکہ نیلامی کے طریقہ کار اور قیمتوں کے تعین سے متعلق سفارشات تیار کی جا سکیں۔

ان تمام رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی تقریباً 4 برس تک تاخیر کا شکار رہی اور مختلف اوقات میں اس کی ڈیڈ لائن کئی مرتبہ تبدیل یا موخر کی گئی۔

مگر اب توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ نیلامی میں کامیاب ٹیلی کام کمپنیوں کو لائسنس جاری ہونے کے چند ماہ بعد ملک میں تجارتی بنیادوں پر 5جی سروس شروع کی جا سکے گی۔

مزید پڑھیں: 5جی پاکستان میں آیا تو کیا عوام اس کا خرچہ برداشت کرسکیں گے؟

واضح رہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نیلامی ہے جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جارہا ہے، جس سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالرز بغیر ٹیکس ریونیو متوقع ہے۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا خواجہ فاطمہ نے حالیہ بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے محدود اسپیکٹرم پر موبائل اور انٹرنیٹ سروسز چلا رہا ہے۔

ان کے مطابق ملک میں 1987 سے اب تک صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے نیٹ ورک کی رفتار اور معیار پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

’اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں مزید 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم نیلام کیا جائے گا تاکہ جدید موبائل سروسز، خصوصاً 5جی، کے لیے بہتر بنیاد فراہم کی جا سکے۔‘

وزیر آئی ٹی کے مطابق 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی ایک خصوصی اور محفوظ سافٹ ویئر کے ذریعے کی جائے گی، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اس پورے عمل کو براہِ راست نشر بھی کیا جائے گا، جبکہ کسی تکنیکی مسئلے کی صورت میں بیک اپ سسٹم بھی تیار رکھا گیا ہے۔

پی ٹی اے کے حکام کے مطابق پاکستان میں آخری بار 3جی اور 4جی کے لیے اسپیکٹرم کی نیلامی 2013 اور 2014 میں کی گئی تھی۔

اس وقت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے پاس سب سے کم اسپیکٹرم موجود ہے۔

 آنے والی نیلامی میں 6 مختلف اسپیکٹرم بینڈز پیش کیے جائیں گے، جن میں 2300 اور 2600 میگا ہرٹز ایسے بینڈ ہیں جو 4جی اور 5جی دونوں سروسز کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انتظار ختم، پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی ٹائم لائن کا اعلان ہوگیا

حکام نے بتایا کہ ملک میں انٹرنیٹ سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیلی کام ٹاورز کی تعداد تقریباً 59,000 تک پہنچ چکی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں 5جی سروس کی رفتار تقریباً 50 ایم بی پی ایس تک ہو سکتی ہے۔

حکومت نے آئندہ 9 برسوں کے لیے ایک طویل المدتی منصوبہ بھی تیار کیا ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیاں ہر سال تقریباً 3,000 نئی سائٹس قائم کریں گی تاکہ نیٹ ورک کی کوریج اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد صرف آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ ملک میں ڈیجیٹل ترقی کو تیز کرنا ہے۔

ان کے مطابق آج کے دور میں انٹرنیٹ معیشت، قومی سلامتی اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، اس لیے بہتر اور تیز رفتار کنیکٹیویٹی فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 5جی سروس متعارف ہونے کے بعد موبائل پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی سے انٹرنیٹ کی رفتار میں کتنی بہتری آئے گی؟

پاکستان میں 5جی نیٹ ورک کے متعارف ہونے سے انٹرنیٹ کی کارکردگی اور صارف کے تجربے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

ٹیکنالوجی ایکسپرٹ ڈاکٹر اسد علی کے مطابق 5جی کی سب سے بڑی خصوصیت اعلیٰ بینڈوتھ، کم لیٹنسی اور زیادہ کنکشن کی صلاحیت ہے۔

’اس کا مطلب ہے کہ صارفین نہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ حاصل کریں گے بلکہ آن لائن گیمز، ویڈیو کالز اور ہائی ریزولوشن اسٹریمز میں لیٹنسی ایک سیکنڈ سے بھی کم محسوس ہوگی، جو 4جی نیٹ ورک کے مقابلے میں کئی گنا بہتر ہے۔‘

مزید پڑھیں: میرے ہاتھ میں کوئی بٹن نہیں کہ انٹرنیٹ بند کردوں، وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ

ڈاکٹر اسد علی نے بتایا کہ 5جی نیٹ ورک مختلف فریکوئنسی بینڈز استعمال کرتا ہے جن میں کم بینڈوتھ سے لے کر میڈیم اور ہائی بینڈوتھ شامل ہیں، جس سے نیٹ ورک کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور ایک ہی وقت میں زیادہ صارفین کو مستحکم کنیکٹیویٹی فراہم کی جا سکتی ہے۔

’اس کا اثر یہ ہوگا کہ شہری علاقوں میں ہائی ڈیمانڈ ڈیٹا سروسز استعمال کرنے کے دوران بھی رفتار متاثر نہیں ہوگی، جبکہ دیہی اور کم نیٹ ورک والے علاقوں میں سروس کی دستیابی میں بہتری آئے گی۔‘

ڈاکٹر اسد علی کے مطابق 5جی صرف تیز رفتار انٹرنیٹ کا ذریعہ نہیں بلکہ ڈیجیٹل ایپلیکیشنز، انڈسٹری 4.0، آٹونومس گاڑیاں، اسمارٹ شہروں اور IoT ڈیوائسز کے لیے بھی بنیادی ستون فراہم کرے گا۔

’5جی کی اعلی بینڈوتھ اور کم لیٹنسی کی بدولت سینسرز اور کنٹرول سسٹمز زیادہ مؤثر طریقے سے ڈیٹا ایکسچینج کر سکیں گے، جس سے نہ صرف صنعتی عمل بلکہ شہری انفراسٹرکچر بھی زیادہ خودکار اور قابلِ اعتماد بن جائے گا۔‘

ڈاکٹر اسد علی کے مطابق، پاکستان میں 5جی کا نفاذ اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل ایجوکیشن، ای ہیلتھ سروسز اور ہائی ٹیک سروسز کے فروغ کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔

صارفین کو نہ صرف تیز اور مستحکم انٹرنیٹ کی سہولت ملے گی بلکہ ملک کے ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے کاروبار، تعلیم اور حکومت کی سروسز ڈیجیٹل بنیادوں پر زیادہ مؤثر طریقے سے چل سکیں گی۔

آئی ٹی ماہر اطہر عبدالجبار کا کہنا تھا کہ اگرچہ 5جی نیٹ ورک کے آغاز سے انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری کی توقع ہے لیکن ملک میں 5جی ڈیوائسز کی تعداد ابھی محدود ہے، جس کا مطلب ہے کہ ابتدائی طور پر زیادہ تر صارفین اس جدید نیٹ ورک سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے۔

’تاہم یہ ایک وقتی مسئلہ ہے کیونکہ مارکیٹ میں 5جی موبائلز اور دیگر آلات کی دستیابی بڑھنے کے ساتھ ہی صارفین کو زیادہ سے زیادہ رفتار اور کم لیٹنسی والے فوائد محسوس ہوں گے۔‘

مزید پڑھیں: حکومت کا وہ کام جو پاکستان میں 5جی انٹرنیٹ عام کردے گا

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں صارفین کو سب سے زیادہ فائدہ شہروں اور کاروباری مراکز میں نظر آئے گا جہاں 5جی کے لیے انفرا اسٹرکچر پہلے ہی تیار ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر صارفین ابتدا میں 4جی پر ہی رہیں گے۔

اس کے باوجود، 5جی کا نفاذ ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک اہم قدم ہے اور آنے والے برسوں میں 5جی ڈیوائسز کی دستیابی بڑھنے کے ساتھ ہی یہ مسئلہ کم ہو جائے گا۔

5جی نیلامی سے 4 جی سروسز متاثر ہو سکتی ہیں؟

پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے ڈی جی لائسنس عامر شہزاد نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 5جی نیٹ ورک کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے مرحلہ وار اور بآسانی توسیع دی جا سکے، جبکہ کوالٹی آف سروس کے لیے کم از کم معیار بھی واضح طور پر طے کر دیے گئے ہیں۔

5جی اسپیکٹرم کی اس نیلامی کے بعد آپریٹرز کو ٹیکنالوجی نیوٹرل 15 سالہ لائسنس ملے گا، اور 5جی رول آؤٹ مرحلہ وار ہوگا جس میں پہلے مرحلے میں کم از کم 50 ایم بی پی ایس ڈاؤن لوڈ اسپیڈ کی پابندی ہوگی۔

مزید پڑھیں:5جی اسپیکٹرم پالیسی کب لائی جائے گی؟ حکومت نے بڑا اعلان کردیا

ان کے مطابق 5جی لانچ کے ساتھ ساتھ 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے گی، آکشن کے بعد آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں کم از کم 4 سے 5 گنا اضافہ کریں۔ ’جو کہا جا رہا ہے کہ 4 جی کی سروسز متاثر ہونگی تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ ‘

ان کے مطابق کے مطابق 5جی سروس کا آغاز محدود اور مرحلہ وار بنیادوں پر کیا جائے گا، جیسا کہ دنیا بھر میں کیا جاتا ہے، پہلے مرحلے میں 5جی بڑے شہروں اور منتخب علاقوں میں لانچ کیا جائے گا، جہاں صارفین کے پاس 5جی ڈیوائسز کی دستیابی زیادہ ہے۔

مثال کے طور پر اسلام آباد میں بلیو ایریا اور سیکٹر ایف 10، کراچی میں ڈیفینس اور کلفٹن جبکہ لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم کمرشل علاقوں کو ابتدائی رول آؤٹ میں شامل کیا جائے گا۔

پہلے سال آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ 5جی سروس یکدم پورے ملک میں لانچ نہیں کی جائے گی بلکہ اسے بتدریج بڑھایا جائے گا، تاکہ مارکیٹ میں اس کی طلب، ڈیوائسز کی دستیابی اور صارفین کی استعداد کے مطابق نیٹ ورک کو وسعت دی جا سکے۔

جہاں 5جی سروس دستیاب ہوگی وہاں کم از کم رفتار موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں 14 سے 15 گنا زیادہ ہوگی، جبکہ جن علاقوں میں 5جی دستیاب نہیں ہوگی وہاں صارفین کو 4جی سروس معمول کے مطابق بہتر کوالٹی کے ساتھ ملتی رہے گی۔

مزید پڑھیں: انٹرنیٹ سروس کو درپیش مسائل کیا 5 جی اسپیکٹرم سے حل ہو جائیں گے؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ 5جی نیٹ ورک بیک ورڈ کمپے ٹیبل ہوگا، یعنی اگر کسی صارف کے پاس 5جی فون نہیں ہے تو وہ 5جی ایریا میں بھی 4جی سروس استعمال کر سکے گا.

’5جی ایک اضافی ٹیکنالوجی لیئر کے طور پر موجودہ ٹاورز پر نصب کی جائے گی، جس سے موجودہ صارفین کی سروس متاثر نہیں ہوگی، 5جی لانچ کا مقصد صرف نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ملک میں موبائل انٹرنیٹ کے معیار کو بہتر بنانا ہے، اور یہی ہدف حکومت اور پی ٹی اے کی پالیسی کا حصہ ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تقریباً 25 کروڑ لیٹر پیٹرول پاکستان پہنچ گیا، مزید درآمدی جہاز کی آمد متوقع

بنگلہ دیش: انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں سیاستدان سے ضمانت کے بدلے رشوت مانگے جانے کا انکشاف

کفایت شعاری کے لیے وزیراعظم کے اعلانات، قومی خزانے کو کتنی بچت ہوگی؟

سونا مہنگا ہو گیا، قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟