کئی برسوں سے مصنوعی ذہانت یا اے آئی خفیہ طور پر دنیا کی لائبریریوں کا مطالعہ کر رہی ہے اور انسانی ادب و تخلیقی کام کو استعمال کر کے اپنی تحریری صلاحیت بہتر بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاعلاج بیماریوں کا علاج: اب تک ناممکن کام کا بیڑا مصنوعی ذہانت نے اٹھا لیا
اس صورتحال پر مصنفین خاصے پریشان ہیں اور اپنی تخلیقات کے حقوق واپس حاصل کرنے اور اپنی تحریروں کی اصل روح کو محفوظ رکھنے کے لیے میدان میں آ گئے ہیں۔
مصنفین کی یہ جدوجہد صرف قانونی جنگ نہیں بلکہ تخلیقی کام کے تقدس اور انسانی تخیل کے مستقبل کے تحفظ کی کوشش بھی ہے۔
اے آئی کی جانب سے بغیر اجازت ڈیٹا اسکریپنگ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر مصنفین نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے تاکہ اے آئی ماڈلز ان کے مواد کو اجازت اور معاوضے کے بغیر استعمال نہ کر سکیں۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت ہمارا دماغ پڑھ لینے کے نزدیک، کیا یہ ہمارے لیے قابل قبول ہوگا؟
اسی مقصد کے تحت مصنفین نے ایک منفرد احتجاج شروع کیا ہے جسے ’خالی کتاب‘ تحریک کہا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مصنفین کی تخلیقی صلاحیت کو صرف استعمال نہ کیا جائے بلکہ اس کا معاوضہ بھی دیا جائے۔
اس مہم کے تحت تقریباً 10 ہزار مصنفین نے ’ڈونٹ اسٹیل دِس بُک‘ کے عنوان سے ایک علامتی خالی کتاب میں حصہ لیا ہے۔ اس کتاب میں دراصل مواد کے بجائے صرف مصنفین کے نام درج ہیں۔
اس میں معروف مصنفین کازو ایشی گورو اور رچرڈ اوسمان کے علاوہ مِک ہیرون، میریئن کیز، مورخ ڈیوڈ اولوسوگا اور مالوری بلیک مین جیسے نمایاں نام بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایچ ای سی نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنا دیا، گائیڈ لائنز جاری
یہ مہم موسیقار ایڈ نیوٹن ریکس کی جانب سے منظم کی گئی اور لندن بک فیئر میں پیش کی گئی۔ کتاب میں صرف مصنفین کے نام شامل کر کے اس بات کی علامت دکھائی گئی ہے کہ کس طرح ان کے تخلیقی کام سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
اس احتجاج کا مقصد برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالنا بھی ہے کیونکہ 18 مارچ تک حکومت کو کاپی رائٹ قوانین میں ممکنہ تبدیلیوں کے معاشی اثرات کے بارے میں رپورٹ پیش کرنا ہے۔
بعض تجاویز کے مطابق یہ تبدیلیاں اے آئی کمپنیوں کے حق میں جا سکتی ہیں۔
مصنفین کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں ان کے مواد سے فائدہ اٹھا کر ایسے اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں جو اصل تخلیق کاروں کے مقابلے میں آ کر ان کے روزگار کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے اپنے لیے فیسبک کی طرز کا ‘مولٹ بُک’ بنا ڈالا، مذہب بھی تشکیل دیدیا
ایڈ نیوٹن ریکس کے مطابق یہ ایسا جرم نہیں جس کا کوئی متاثرہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے کام سے اے آئی تربیت حاصل کرتا ہے وہی اس کے مقابلے میں آ جاتے ہیں اور ان کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
حکومت کو تخلیق کاروں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور اے آئی کمپنیوں کو تخلیقی کام چوری کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
دوسری جانب پبلشرز بھی ’پبلشرز لائسنسنگ سروس‘ کے ذریعے ایک اے آئی لائسنسنگ نظام متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ اے آئی کمپنیوں کو قانونی طور پر شائع شدہ مواد استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکے۔
اسی دوران کمپنی انتھروپک نے مصنفین کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کے ایک مقدمے میں تصفیہ کر کے ایک قانونی مثال قائم کی ہے، جس میں الزام تھا کہ کمپنی نے اے آئی کی تربیت کے لیے چوری شدہ کتابیں استعمال کیں۔
مصنفین کے خدشات کے پیش نظر برطانوی حکومت کاپی رائٹ قوانین میں مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
ایک تجویز کے مطابق اے آئی کمپنیوں کو کاپی رائٹ مواد استعمال کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔
دوسری تجویز کے تحت اے آئی کمپنیوں کو مواد استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جب تک مصنفین واضح طور پر اس سے انکار نہ کریں۔
حکومت ایک ایسے ماڈل پر بھی غور کر رہی ہے جس میں تجارتی تحقیق کے لیے اے آئی کمپنیوں کو کاپی رائٹ پابندیوں سے جزوی استثنا دیا جا سکتا ہے تاہم مصنفین کا کہنا ہے کہ اس سے قوانین کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق حکومت ایسا کاپی رائٹ نظام چاہتی ہے جو انسانی تخلیقی صلاحیت کو اہمیت دے اور اس کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی جدت اور ٹیکنالوجی کو بھی فروغ دے۔
مزید پڑھیں: کیا لوگ تحمل سے سننا اور بیجا تنقید سے گریز مصنوعی ذہانت سے سیکھ سکتے ہیں؟
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے تخلیقی شعبے کے نمائندوں سے مشاورت جاری رہے گی۔














