مودی کی ہندوتوا بھارتی حکومت نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں دریائے چناب دلہستی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے پر کام شروع کر دیاہے ۔یہ منصوبہ ساڑھے3 سال میں مکمل ہو گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکو مت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں 260میگاواٹ صلاحیت کا حامل دلہستی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ 44ماہ کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
یہ منصوبہ دریائے چناب پر تعمیر کیا جارہا ہے ، جو ان 3 مغربی دریائوں میں شامل ہے جن کا پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کودیا گیا تھا۔ تاہم 2025میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے تناظر میں، یہ مغربی دریا ئوں پر مکمل ہونے والا پہلا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہوگا۔
راجیہ سبھا کے رکن سجاد احمد کچلو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے بجلی شری پد نائیک نے بتایا کہ سینٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی نے گزشتہ سال26مئی کو منصوبے کی ڈی پی آر منظور کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پانی کو ہتھیار بنا رہا ہے، سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا، امریکی جریدے کی رپورٹ
منصوبے کو 7جنوری 2026 کو ماحولیاتی کلیئرنس مل گئی ہے ۔20فروری کو این ایچ پی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے ۔
حکومت کے مطابق زمین کے حصول کا عمل رائٹ ٹو فیئر کمپنسیشن ایکٹ 2013 کے تحت کیا جا رہا ہے ، واضح رہے کہ 390میگا واٹ کا دلہستی پاور اسٹیشن اپریل 2007 سے کام کر رہا ہے ۔














