آج کل کی جنگیں

جمعرات 12 مارچ 2026
author image

عفان خان خٹک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج کل کی جنگیں ویسی نہیں رہیں جیسی کبھی ہوا کرتی تھیں۔ ایک وقت تھا جب جنگ کا مطلب صرف گولیاں اور بارود نہیں ہوتا تھا، جنگ کا مطلب ہوتا تھا کہ دنیا رک گئی ہے، سانس تھم گئی ہے، ریاستیں مہینوں تیاری کرتی ہیں، عوام کو قائل کیا جاتا ہے کہ کیا واقعی جنگ ضروری ہے یا نہیں، جنگ ایک فیصلہ نہیں، ایک عہد ہوا کرتی تھی، لیکن آج؟

آج جنگیں ایک دن میں شروع ہوتی ہیں اور ایک ہفتے میں ختم بھی ہو جاتی ہیں۔ جون 2025ء کی ایران۔اسرائیل لڑائی کو 12 روزہ جنگ کہا گیا، جبکہ مئی 2025ء کی بھارت۔پاکستان جھڑپ صرف 4 دن میں سیز فائر پر پہنچ گئی۔

سوال یہ ہے کہ اگر جنگیں دنوں میں ختم ہو رہی ہیں تو کیا یہ واقعی جنگیں ہیں یا ہم نے صرف ان کے نام بدل دیے ہیں؟ میرا ماننا یہ ہے کہ اصل تبدیلی ہتھیاروں سے پہلے لفظوں میں آئی ہے۔

پہلے ریاستیں ’جنگ‘ کہتی تھیں، اب ’تنازع‘، ’کشیدگی‘، ’محدود آپریشن‘، ’جوابی کارروائی‘ اور ’کانفلکٹ‘ کہتی ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ جنگ ایک بھاری لفظ ہے۔ جنگ کا مطلب ہے غیر یقینی، قربانی، لاشیں، معیشت پر دباؤ، سیاسی قیمت، اور ایک ایسا ماحول جس میں حکومتوں سے سوال پوچھے جاتے ہیں، جبکہ ’کانفلکٹ‘ ایک ہلکا لفظ ہے، ایسا لفظ جو یہ تاثر دیتا ہے کہ سب کچھ قابو میں ہے، معاملہ محدود ہے، اور اسے سنبھالا جا سکتا ہے، گویا لفظ بدل کر حقیقت کو نرم بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن کیا صرف نام بدلنے سے جنگ بدل جاتی ہے؟ کیا بم گرنے سے پہلے وہ پوچھتے ہیں کہ ہمیں جنگ کہنا ہے یا کانفلکٹ؟ کیا ملبے تلے دبے ہوئے بچوں کے لیے اس لفظی فرق کی کوئی اہمیت ہے؟ اگر ایک ملک پر میزائل برس رہے ہوں، ہزاروں لوگ مر رہے ہوں، شہروں میں خوف پھیل رہا ہو، فضائیں بند اور سرحدیں گرم ہوں، تو پھر اسے جنگ نہ کہہ کر آخر کیا حاصل کیا جاتا ہے؟

حاصل صرف یہ کیا جاتا ہے کہ عوام کو فوری طور پر اس احساس تک نہ پہنچنے دیا جائے کہ وہ ایک بڑی جنگ کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا بدل گئی تھی، لیکن اصل سبق شاید عراق اور افغانستان نے دیا۔

اب بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ کسی ملک پر بمباری کرنا ایک بات ہے، لیکن اس ملک پر قبضہ کرنا، اس کے لوگوں کو جھکانا، اس کی سیاست کو نئے سرے سے بنانا اور پھر کامیابی سے واپس نکل جانا بالکل دوسری بات ہے۔

اسی لیے آج کی  طاقتیں فضائی جنگ کو ترجیح دیتی ہیں، کیونکہ فضا سے حملہ کرنا آسان ہے، بچنا آسان ہے، کرنا آسان ہے، لیکن زمینی حملہ اب بہت مشکل سودا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے معاملے میں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا ایران کو نقصان پہنچا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ایک طویل جنگ کو سیاسی ، معاشی اور عوامی طور پر برداشت کر سکتا ہے؟

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران شاید اس جنگ کو روایتی معنی میں ’جیتنے‘ کی جنگ نہیں سمجھ رہا بلکہ ’نہ ہارنے‘ کی جنگ سمجھ رہا ہے، یعنی مقصد یہ نہیں کہ فوراً فیصلہ کن فتح حاصل کی جائے بلکہ یہ ہے کہ جنگ کو اتنا طول دے دیا جائے کہ مخالف طاقتوں کے لیے اپنے عوام کو قائل کرنا مشکل ہو جائے کہ یہ صرف ایک محدود تصادم ہے، کیونکہ جس لمحے عوام کو احساس ہو جاتا ہے کہ یہ واقعی جنگ ہے، ماحول بدل جاتا ہے، پھر پٹرول کی قیمت بھی خبر نہیں رہتی، خوف بن جاتی ہے، پھر صرف خارجہ پالیسی نہیں بدلتی، معاشرہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔

اور جب معاشرہ بدلتا ہے تو صرف محاذ نہیں کھلتے، ذہن بھی بدلتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد کی دنیا ہمیں یاد ہے، خوف، شکوک، نفرت، نگرانی، شناخت کی سیاست، اور مسلمانوں کے خلاف وہ مسلسل بدگمانی جو برسوں تک عالمی فضا پر چھائی رہی۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے گرد بنتا ہوا ماحول دوبارہ دنیا کو ویسی ہی نفسیاتی کیفیت میں لے جا سکتا ہے؟ کچھ ماہرین کہتے ہیں نہیں، کیونکہ یہ لڑائی محدود رہے گی، چند روزہ بمباری ہوگی اور پھر معمولات واپس آ جائیں گے، لیکن یہ دلیل اپنی جگہ ایک اور بڑا سوال چھوڑ جاتی ہے۔

اگر یہ سب واقعی صرف ’کانفلکٹ‘ ہیں تو پھر ان کانفلکٹس میں مرنے والے لوگ اتنے زیادہ کیوں ہوتے ہیں؟ ایران میں، لبنان میں، غزہ میں، عراق میں، لیبیا میں، افغانستان میں ابتدا ہمیشہ محدود الفاظ سے ہوتی ہے مگر انجام قبرستانوں میں لکھا جاتا ہے۔

ذرا تاریخ کی طرف بھی چلتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کوریا اور ویتنام کی جنگیں بلاشبہ مکمل جنگیں تھیں، وہ مہینوں اور برسوں پر محیط رہیں، ان میں محاذ تھے، نظریات تھے، اتحادی تھے، اور ریاستی طاقت کا پورا اظہار تھا، لیکن ان جنگوں نے ایک اور تلخ حقیقت بھی ثابت کی۔

فوجی برتری ہمیشہ سیاسی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ ایک طاقتور ملک زیادہ تباہی مچا سکتا ہے، زیادہ لاشیں گرا سکتا ہے، زیادہ وسائل جھونک سکتا ہے، مگر پھر بھی وہ اپنے مطلوبہ سیاسی نتیجے تک نہیں پہنچتا۔

شاید اسی سبق نے جدید طاقتوں کو یہ سکھایا کہ مکمل جنگ مہنگی ہے، طویل جنگ خطرناک ہے، اور محدود جنگ زیادہ قابلِ فروخت ہے۔ تو پھر آج کل کی جنگیں آخر اتنی چھوٹی کیوں نظر آتی ہیں؟

اس کا ایک جواب جدید ٹیکنالوجی ہے، دوسرا جواب سیاسی نفسیات، اور تیسرا شاید ایٹمی ہتھیار ہیں۔ نیوکلیئر دور میں بڑی طاقتیں جانتی ہیں کہ اگر جنگ مکمل اور بے قابو ہو گئی تو نقصان صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہے گا، چاہے جنگ صرف دو ممالک کے درمیان ہو، اس کے اثرات پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں۔

تیل، تجارت، مہنگائی، مہاجرین، بحری راستے، اتحادی دباؤ، اور عالمی منڈیوں کا بھونچال۔ اسی لیے جدید دنیا نے جنگ کو ختم نہیں کیا، اسے کرنا سیکھا ہے، محدود کرنا سیکھا ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کا نام بدلنا سیکھ لیا ہے۔

لیکن حقیقت اب بھی وہی ہے جو ہمیشہ تھی۔ جنگ آج ہو، کل ہو، کل کی ہو یا آنے والے کل کی، اسے جنگ کہا جائے یا کانفلکٹ، ایک چیز کبھی نہیں بدلتی۔ مرتا ہمیشہ عام آدمی ہے۔

جو لوگ فیصلہ کرتے ہیں وہ اکثر محفوظ کمروں میں ہوتے ہیں، اور جو لوگ مرتے ہیں وہ اکثر وہ ہوتے ہیں جنہوں نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا ہوتا۔ یہی اصل سچ ہے، اور شاید یہی وہ سچ ہے جسے چھپانے کے لیے ’جنگ‘ کو ’کانفلکٹ‘ کہا جاتا ہے۔

آج کل کی جنگیں واقعی بدل گئی ہیں؟ جی ہاں، ان کی رفتار بدل گئی ہے، ان کی زبان بدل گئی ہے، ان کی بدل گئی ہے، لیکن کیا ان کی روح بدل گئی ہے؟ نہیں۔ آج بھی جنگ وہی ہے۔

طاقتور کی خواہش، کمزور کی قیمت، اور معصوموں کی موت۔ دعا یہی ہے کہ جیسے جنگیں بدل کر “کانفلکٹس” بن گئی ہیں، ویسے ہی شاید ایک دن کانفلکٹس بدل کر امن بن جائیں، لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں الفاظ کے پردے سے باہر نکل کر حقیقت کو حقیقت کہنا ہوگا، کیونکہ جو دنیا جنگ کو جنگ کہنا چھوڑ دے، وہ ایک دن جنگ کوبھی معمول سمجھنے لگتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

گورنر سندھ نہال ہاشمی مزار قائد پر کسی اور سے تاثرات قلمبند کراتے رہے، ویڈیو وائرل

پاک بنگلہ دیش سیریز: سلمان آغا کا متنازع رن آؤٹ، اسپورٹس مین اسپرٹ کی بحث چھڑ گئی

ایم کیو ایم کی طاقت عوام ہیں، خالد مقبول کا حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی کا اعتراف

وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

شمالی کوریا نے 10 سے زیادہ بیلسٹک میزائل سمندر میں داغ دیے

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے