صدرِ مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 48 اور 101 کے تحت گورنر سندھ کے عہدے کے لیے نہال ہاشمی کی تقرری کی سمری کی منظوری دے دی۔
جبکہ کامران ٹیسوری نے اپنے متاخر (نہال ہاشمی) کو فون کرکے مبارکباد پیش کردی۔
یہ بھی پڑھیں: نہال ہاشمی گورنر سندھ مقرر، وزیراعظم کی طرف سے مبارکباد
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر اس تقرری کی توثیق کی۔
اس موقعے پر صدر آصف علی زرداری نے نہال ہاشمی کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
کامران ٹیسوری کا نہال ہاشمی کو فون، مکمل تعاون کی یقین دہانی
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے نامزد گورنر سندھ نہال ہاشمی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں نئی ذمہ داری ملنے پر مبارکباد دی۔
گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق کامران ٹیسوری نے گفتگو کے دوران کہا کہ صوبے میں شروع کیے گئے تمام عوامی منصوبوں اور اقدامات کے تسلسل کے لیے وہ مکمل تعاون فراہم کریں گے۔
مزید پڑھیے: گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ
انہوں نے نہال ہاشمی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر ممکن معاونت کے لیے تیار ہیں۔
نہال ہاشمی کون ہیں؟
سید نہال ہاشمی ایک مقبول سیاستدان ہیں جنہوں نے وکالت اور سیاست دونوں شعبوں میں طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔
سید نہال ہاشمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور کئی دہائیوں سے سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے ہیں۔ وہ مارچ 2015 سے فروری 2018 تک ایوانِ بالا کے رکن رہے اور اس دوران پارلیمانی امور میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
ان کی سیاسی وابستگی مسلم لیگ (ن) سے ہے اور وہ پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ نہال ہاشمی نے اپنے سیاسی سفر کے دوران مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور پارٹی کی تنظیم سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن ن لیگ میں شامل
نہال ہاشمی اس سے قبل سنہ 1997 سے سنہ 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کے مشیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے قانونی اور آئینی امور میں حکومت کو مشاورت فراہم کی۔
سیاسی میدان میں ان کی سرگرمیاں خاص طور پر کراچی اور سندھ کی سیاست میں نمایاں رہی ہیں۔ سنہ 2012 کے دوران وہ کراچی میں مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے شہر میں پارٹی کو فعال بنانے اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔
اگست 2014 میں انہیں مسلم لیگ (ن) سندھ کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا، جبکہ اسی سال اکتوبر 2014 میں ایک مرتبہ پھر انہیں اسی عہدے کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس دوران انہوں نے سندھ بھر میں پارٹی کو منظم کرنے اور سیاسی رابطوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
سنہ 2015 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں سید نہال ہاشمی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب سے جنرل نشست پر منتخب ہوئے اور سینیٹ آف پاکستان کے رکن بنے۔ ایوانِ بالا میں انہوں نے مختلف پارلیمانی معاملات اور سیاسی مباحث میں بھرپور شرکت کی۔
جون 2017 میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے دوران انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا، جس کے بعد وہ اپنی مدت مکمل ہونے تک سینیٹ کے رکن رہے۔
بعد ازاں یکم فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت کیس میں انہیں سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں ایک ماہ قید کی سزا دی اور اگلے پانچ سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیاں کچھ عرصے کے لیے محدود ہو گئیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ وہ دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے: صوبہ سندھ کے نئے گورنر نہال ہاشمی کون ہیں؟
اب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انہیں سندھ کے گورنر کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد ایک بار پھر ان کا نام ملکی سیاست میں نمایاں ہو گیا ہے۔














