وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانیہ کے پارلیمانی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور پاکستان ہمیش فاکنرایم پی نے آج فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔
ملاقات میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ، منسٹریل پرائیویٹ سیکریٹری ایلس ڈفی، برطانوی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکریٹری سربجیت سنگھ اور فائنانس ڈویژن کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
دونوں جانب سے علاقائی صورتحال، پاکستان کے معاشی منظرنامے، جاری ساختی اصلاحات، مالیاتی ترجیحات، ادارہ جاتی جدیدکاری اور پاکستان و برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی برطانوی وزیر ہمیش فاکنر سے ملاقات، خطے میں امن پر گفتگو
وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے برطانوی وفد کو حکومت کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے اور وفاقی بجٹ 27-2026 کی اہم ترجیحات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے، اقتصادی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانے، ساختی اصلاحات میں تیزی لانے اور جامع و پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
گفتگو کے دوران وزیرِ خزانہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمت کے بعد کشیدگی میں آنے والی کمی شامل ہے۔
https://Twitter.com/search?q=%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1%D9%90%20%D8%AE%D8%B2%D8%A7%D9%86%DB%81%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D8%A8%D8%B1%D8%B7%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C%20%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1%20%DA%A9%DB%92%20%D8%AF%D8%B1%D9%85%DB%8C%D8%A7%D9%86%20%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%82%D8%A7%D8%A6%DB%8C%20%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%84%D8%8C%20%D8%A7%D9%82%D8%AA%D8%B5%D8%A7%D8%AF%DB%8C%20%D9%85%D9%86%D8%B8%D8%B1%D9%86%D8%A7%D9%85%DB%92%20%D8%A7%D9%88%D8%B1%20%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%20%DA%A9%DB%92%20%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D8%AA%DB%8C%20%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D9%86%DA%88%DB%92%20%D9%BE%D8%B1%20%D8%AA%D8%A8%D8%A7%D8%AF%D9%84%DB%81%D9%94%20%D8%AE%DB%8C%D8%A7%D9%84&src=typed_query
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مسلسل مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابتدائی مرحلے سے ہی خطے میں تناؤ کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ خطے میں طویل المدتی عدم استحکام اقتصادی اعتماد، توانائی کی منڈیوں، سپلائی چینز اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ کا بڑا اعلان، پاکستان کے 11 کاروباری ادارے ’کلائمیٹ فنانس ایکسیلیریٹر‘ کے لیے منتخب
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے اپنی اقتصادی منصوبہ بندی اور مالیاتی تخمینوں میں ممکنہ بیرونی اور جغرافیائی سیاسی خطرات کو مدنظر رکھا ہے، جن میں علاقائی غیر یقینی صورتحال کے بالواسطہ معاشی اثرات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں بہتر ہوتی ہوئی صورتحال معاشی استحکام، سرمایہ کاری، تجارت اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرے گی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے برطانوی وفد کو پاکستان میں جاری مالیاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے محصولات میں اضافے، ٹیکس نظام میں تعمیل کے فروغ، لیکیجز کے خاتمے اور ٹیکنالوجی، ڈیٹا انضمام، مرکزی پراسیسنگ اور ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اصلاحاتی ایجنڈے کا مقصد محض محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ شفافیت کو فروغ دینا، صوابدیدی مداخلت میں کمی لانا اور شہریوں، کاروباری اداروں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم بنانا بھی ہے۔
ملاقات میں حکومت کے وسیع تر ڈھانچہ جاتی اصلاحاتی پروگرام پر بھی گفتگو ہوئی، جس میں نجکاری، سرکاری اداروں کی رائٹ سائزنگ، سرکاری اخراجات کی استعداد میں بہتری، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی اور ہدفی سماجی تحفظ کے نظام کے دائرہ کار میں توسیع جیسے اقدامات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے برطانیہ کے مشیر قومی سلامتی کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
وزیرِ خزانہ نے ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات کی فراہمی اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
برطانوی وزیر ہمیش فاکنر نے اقتصادی اصلاحات کے لیے حکومت کے عزم کو سراہتے ہوئے پاکستان کے جاری اصلاحاتی اور تبدیلی کے ایجنڈے کی وسعت اور سنجیدگی کو تسلیم کیا۔
انہوں نے اصلاحات کے تسلسل، ادارہ جاتی بہتری، اقتصادی مسابقت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے باہمی اقتصادی مفادات کے شعبوں میں برطانیہ کی جانب سے مسلسل تعاون اور روابط برقرار رکھنے میں دلچسپی کا بھی اعادہ کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے پائیدار اقتصادی ترقی، ادارہ جاتی بہتری اور علاقائی استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان قریبی تعاون اور روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔














