بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت کے دعوے نئے سروے میں متاثر کن ثابت نہیں ہوئے۔ گیلپ انٹرنیشنل نے حال ہی میں اپنا تازہ عالمی سروے جاری کیا ہے، جس میں مختلف ممالک میں عوام کی رائے کو ماپا گیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق مودی کی عالمی سطح پر مقبولیت توقعات کے مطابق نہیں رہی اور ان کے حمایتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:مہمان ایرانی جہاز پر بحر ہند میں امریکی حملہ، مودی امریکا ڈیل یا بھارتی بحریہ نااہل؟
سروے میں دنیا کے مختلف خطوں میں مودی کی حکومت کی پالیسیوں اور عالمی تعلقات کے حوالے سے عوام کی رائے بھی شامل کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ایشیا اور یورپ کے بعض ممالک میں بھارتی وزیر اعظم کی مقبولیت مثبت رہی، لیکن امریکا، افریقہ اور کچھ یورپی ممالک میں ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی۔

سروے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کچھ عالمی حلقے مودی کی اقتصادی اور سیاسی پالیسیوں پر تحفظات رکھتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں ان کی خارجہ پالیسی کو سراہا گیا۔
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر نریندر مودی کی مقبولیت میں توقع کے مطابق اضافہ نہیں ہوا، اور یہ ان دعووں کے برعکس ہے جو بھارتی قیادت نے حالیہ سالوں میں عالمی میڈیا اور کانفرنسوں میں پیش کیے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج بھارت کی عالمی پوزیشن اور مودی کی قیادت کی بین الاقوامی شبیہ پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی صف بندی: بھارت خلیج اور ایران کے ساتھ توازن کھو رہا ہے؟
یہ سروے نہ صرف عالمی سطح پر نریندر مودی کی مقبولیت کا جائزہ لیتا ہے بلکہ بھارتی سیاست میں عوامی تاثر اور عالمی تعلقات کی سمت کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہو رہا ہے۔














