اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی صف بندی: بھارت خلیج اور ایران کے ساتھ توازن کھو رہا ہے؟

جمعہ 6 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ اسرائیل محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے میں سرکاری استقبال، پریڈ اور کنیسیٹ میں خطاب شامل تھا، جسے خطے میں بھارت کی نئی سفارتی سمت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ بڑھتی قربت دراصل بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کے ساتھ کھلی صف بندی کی علامت ہے، جو بالواسطہ طور پر امریکا کے ساتھ بھی ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک افغان جنگ، پاکستان نہیں رکے گا، اسرائیل اور مودی کی فرمائش پر افغانستان کی بڑی غلطی

ماضی میں بھارت کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو یہ تھا کہ وہ بیک وقت مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھتا تھا۔ اسرائیل سے دفاعی و ٹیکنالوجی تعاون، خلیجی ممالک سے توانائی اور تجارت، جبکہ ایران کے ساتھ علاقائی رابطہ کاری کے منصوبے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کے حالیہ بیانات اور اسرائیل کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اس توازن کو برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔

خاص طور پر اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی اور دفاعی تعاون پر زور دینے والے بیانات کے بعد تہران اور عرب دنیا میں بھارت کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مودی نے سوشل میڈیا پر نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو کا ذکر کیا، تاہم ایران کے ساتھ رابطے کا کوئی واضح اشارہ نہیں دیا گیا۔

امریکی جریدے ڈی سی جرنل میں شائع ہوئے مضمون کا عکس

ڈی سی جرنل میں شائع مضمون کے مطابق اس طرزِ عمل سے دہلی اور تہران کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے، جس میں بھارت سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن پہلے ہی بھارت پر دباؤ ڈال چکا ہے کہ وہ ایران میں اس منصوبے کو محدود کرے۔ امریکا نے اس منصوبے کے لیے پابندیوں میں چھوٹ اپریل 2026 تک دی ہے، جس کے بعد اس کا مستقبل غیر واضح دکھائی دیتا ہے۔

مزید برآں امریکا کی جانب سے بھارت پر روسی تیل کی درآمد کم کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا گیا ہے، جس نے بھارت کی علاقائی پالیسی پر مزید سوالات کھڑے کیے ہیں۔

خلیجی ممالک طویل عرصے سے بھارت کو ایک مستحکم اقتصادی شراکت دار کے طور پر دیکھتے آئے ہیں۔ ایک بڑی منڈی، قابلِ اعتماد خریدار اور افرادی قوت کا اہم ذریعہ۔ تاہم اسرائیل کے ساتھ مودی کی کھلی قربت اس تاثر کو پیچیدہ بنا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں۔

مضمون نگار کے مطابق اگر خطے میں یہ بیانیہ مضبوط ہو جاتا ہے کہ بھارت اسرائیل کے حامی سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بن رہا ہے تو خلیجی عوامی رائے بھی اس کے خلاف جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خلیجی حکومتوں کے لیے عوامی دباؤ کو نظر انداز کرنا مشکل ہو سکتا ہے اور بھارت کے لیے غیر جانبداری کا دعویٰ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

اس پالیسی تبدیلی کا سب سے حساس پہلو خلیجی ممالک میں موجود بھارتی تارکینِ وطن ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قریباً 43 لاکھ جبکہ سعودی عرب میں قریباً 25 لاکھ بھارتی شہری مقیم ہیں، جبکہ کویت، قطر، عمان اور بحرین میں بھی بڑی بھارتی برادری موجود ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق 2024 میں بھارت کو بیرونِ ملک مقیم شہریوں سے قریباً 129 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔

مزید پڑھیں: ایران حملے سے قبل مودی کا دورہ اسرائیل، عالمی میڈیا اور اپوزیشن کی شدید تنقید

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خلیجی حکومتیں کسی ایک دورے کی بنیاد پر بھارت کے خلاف براہِ راست اقدامات شاید نہ کریں، لیکن سماجی ردعمل، ملازمتوں میں امتیاز یا ویزا پالیسیوں میں سختی جیسے عوامل تارکینِ وطن کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔

نتیجتاً، دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون میں ممکنہ فوائد کے باوجود، بھارت کو اس بات کا خطرہ درپیش ہے کہ وہ مغربی ایشیا کی پیچیدہ سیاسی تقسیم کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات اس کے علاقائی تعلقات اور بیرونِ ملک مقیم لاکھوں شہریوں پر پڑ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری

شامل حسین اور سعد خان کی سینچریاں، شاہین کی تباہ کن بولنگ، پاکستان گولڈ نے نیشنل چیمپیئنز کپ جیت لیا

عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی پی ٹی آئی کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کا نیتن یاہو کو غزہ امن منصوبے میں رکاوٹیں نہ ڈالنے کا مشورہ

جی سی ایس ای کے بعد ٹی لیولز، گریڈز کتنے اہم اور اے لیولز سے کیسے مختلف، اس کورس کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے؟

ویڈیو

پاکستان میں خواتین معذوری کے ساتھ کن مسائل کا سامنا کرتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کو ’سفید جھنڈا لہرانے‘ کا مشورہ، ایرانی حکام کو ماہر کھلاڑی بھی قرار دے دیا

6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

کالم / تجزیہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟

انتقال کے 29 برس بعد