دنیا بھر میں ہوائی سفر کے اخراجات میں تیزی سے اضافے کے باعث بین الاقوامی سیاحت اور سفری سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی ٹکٹوں کی بڑھتی قیمتیں مسافروں اور سیاحتی صنعت دونوں کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، فضائی کمپنیوں کے آپریشنل اخراجات میں بڑھوتری اور بعض خطوں میں جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہوائی سفر مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے خاص طور پر طویل فاصلے کی پروازوں کے کرایوں کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
Iran War Disrupts Global Aviation: Why Airlines Are Raising Ticket Prices
Watch more on #ConnectingTheDots 🔗 https://t.co/YxQTIJjLLs @Munmun_Bhat #IranWar #IranConflict #GlobalAviation pic.twitter.com/AwwwhzU7EH
— DD India (@DDIndialive) March 13, 2026
بلومبرگ کے مطابق کئی مسافروں نے مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے اپنے سفری منصوبے مؤخر کر دیے ہیں یا کم فاصلے کے سفر کو ترجیح دینا شروع کر دیا ہے۔ بعض افراد بیرون ملک جانے کے بجائے مقامی یا قریبی ممالک میں سیاحت کو زیادہ مناسب سمجھ رہے ہیں۔ اس رجحان کا اثر بین الاقوامی سیاحتی مقامات اور ایئر لائنز کی آمدنی پر بھی پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی کمپنیوں کو بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ وبا کے بعد مسافروں کی تعداد میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن طیاروں کی دستیابی، عملے کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے کمپنیوں کو کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں ہوائی سفر اتنا مہنگا کیوں؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی
بعض ایئر لائنز نے اضافی فیسیں بھی متعارف کروائی ہیں جن میں سامان، نشست کے انتخاب اور دیگر سہولیات کے چارجز شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر فضائی سفر کی طلب اب بھی مضبوط ہے، تاہم بلند کرایے طویل مدت میں سفر کے رجحانات کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتیں اور آپریشنل اخراجات اسی طرح بڑھتے رہے تو آنے والے مہینوں میں بھی ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مسافروں کو رعایتی کرایوں اور متبادل سفری منصوبوں کی تلاش کرنا پڑ سکتی ہے، جبکہ ایئر لائنز کو بھی مسافروں کو برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
بلومبرگ کے مطابق بڑھتے ہوئے کرایوں نے عالمی سیاحت کے شعبے کے مستقبل اور فضائی سفر کی استطاعت کے بارے میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔














