وزیراعظم طارق رحمان کا بنگلہ دیش میں بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت پر زور

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیشی وزیر اعظم طارق رحمان نے ملک میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن بقائے باہمی ایک مستحکم اور خوشحال ریاست کی بنیاد ہے۔

انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز دارالحکومت ڈھاکا کے عثمانی میموریل آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں حکومت کی جانب سے آئمہ، مؤذنین اور مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے مالی معاونت کے ایک پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اس تقریب میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی صف میں بیٹھے ہیں جو بنگلہ دیش کی روایتی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش پارلیمنٹ: صدر کے خطاب پر اپوزیشن کا واک آؤٹ، وزیرِ داخلہ نے تضاد قرار دیدیا

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی لوگوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان، ہندو، بدھ، عیسائی، عقیدہ رکھنے والے یا نہ رکھنے والے سب کو مل جل کر امن کے ساتھ رہنا ہوگا۔

تقریب کے دوران باضابطہ افتتاح امام حسین احمد عبداللہ کو اعزازی چیک فراہم کر کے کیا گیا، جو بوگورا بیت الرحمان سینٹرل مسجد کے امام ہیں۔

بعد ازاں وزیراعظم نے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو فعال کیا جس کے ذریعے وظیفے براہِ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

طارق رحمان نے بتایا کہ حکومت نے خطیب، آئمہ، مؤذنین اور دیگر مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے لیے مالی معاونت کا نظام متعارف کرایا ہے اور اس پروگرام کو مرحلہ وار پورے ملک تک پھیلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شہری کے لیے سماجی اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیراعظم کے مطابق پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں 4,908  مساجد، 990  مندروں اور 144  بدھ خانقاہوں سے تعلق رکھنے والے مجموعی طور پر 16,992  مذہبی رہنما ماہانہ وظیفہ حاصل کر رہے ہیں جبکہ مزید اداروں کو بھی بتدریج اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزنز پارٹی کی تنظیمی نیٹ ورک میں توسیع

انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بھی ریاست اور معاشرے کے لیے ذمہ داریاں ہیں اور اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری صحیح طریقے سے ادا کرے تو بنگلہ دیش آئندہ ایک دہائی میں سیاسی اور معاشی طور پر خود کفیل بن سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک مہذب معاشرہ صرف معاشی ترقی سے قائم نہیں ہوسکتا بلکہ دیانت داری، برداشت، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری جیسی اخلاقی اقدار بھی ضروری ہیں۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون

انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اور سماجی اقدار کو فروغ دیں تاکہ ایک پُرامن اور تشدد سے پاک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

طارق رحمان کا مزید کہنا تھا کہ مضبوط ریاست کے قیام کے لیے شہریوں کو معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار بنانا ضروری ہے، کیونکہ کوئی بھی قوم اس وقت تک مضبوط نہیں رہ سکتی جب تک اس کے عوام کمزور ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

بنگلہ دیش: جسٹس اینڈ ڈیموکریسی پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے