سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریاز ریوائیول (لہر) کے اجلاس میں شہر کے تاریخی حسن کی بحالی، قدیم ناموں کی واپسی اور اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
سڑکوں اور تعلیمی اداروں کے پرانے نام بحال
اجلاس میں لاہور کی سڑکوں اور گلیوں کے پرانے نام بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔
اسی طرح جن سرکاری کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے، ان کے ناموں سے ’یونیورسٹی‘ کا لاحقہ ہٹا کر اصل تاریخی نام بحال کیے جائیں گے۔
تاریخی عمارتوں کی بحالی اور نئے منصوبے
اجلاس میں قدیمی عمارتوں کی بحالی کے منصوبوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی اور جاری پراجیکٹس کا تصویری جائزہ بھی لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے لاہور کے تاریخی ورثہ کی بحالی میں نوازشریف کی دلچسپی
ٹولنٹن مارکیٹ کے عقب میں ’کانوونٹ گارڈن‘ بنانے اور وہاں آرگینک کیفے قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ دو منزلہ انڈر گراؤنڈ پارکنگ بھی تعمیر کی جائے گی۔
نیو میوزیم بلاک میں جدید سہولیات
نئے میوزیم بلاک میں عالمی معیار کی گیلریز قائم کی جائیں گی، جن میں قدیمی اسلحہ، سکے، چینی اور سکھ گیلریز شامل ہوں گی۔
سیاحوں کی دلچسپی کے لیے انٹرایکٹو اسکرینز بھی نصب کی جائیں گی۔
شاہی گزرگاہوں کی بحالی
شاہ عالم گیٹ سے رنگ محل چوک تک راستے کو پیدل گزرگاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھاٹی، موچی، یکی، مستی، دہلی اور دیگر تاریخی گیٹوں کی اندرونی شاہی گزرگاہوں کو اصل حالت میں بحال کیا جائے گا، جبکہ سیاحوں کے لیے الیکٹرک کارٹس بھی چلائی جائیں گی۔
تاریخی مساجد اور مقامات کی مرمت
مریم زمانی مسجد سمیت دیگر تاریخی عمارتوں کی بحالی پر اتفاق کیا گیا۔
شاہی قلعہ لاہور کی فصیل کو بھی قدیمی حالت میں بحال کیا جائے گا، جس کا کام مختلف مراحل میں مکمل ہوگا۔
سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات
اکبری گیٹ میں ٹورسٹ انفارمیشن آفس قائم کیا جائے گا، جبکہ موچی، یکی اور مستی گیٹ کی بحالی کے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے کیا نوازشریف سیاسی سرگرمیاں چھوڑ کر لاہور کا تاریخی ورثہ بحال کروائیں گے؟
نیلا گنبد میں کیفے، انڈر گراؤنڈ پارکنگ اور تاریخی عمارتوں کی اصل شکل میں بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔
صفائی، نکاسی اور خوبصورتی پر توجہ
والڈ سٹی کے ارد گرد نکاسی آب کے نظام کی بحالی کا جائزہ لیا گیا، جبکہ ’ستھرا پنجاب‘ کے تحت تاریخی عمارتوں کی صفائی کے لیے خصوصی ونگ بنانے کی تجویز دی گئی۔
عمارتوں کے بیرونی حصوں کو یکساں قدیمی طرز پر بحال کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
دیگر اہم اقدامات
شاہ عالمی چوک میں باؤلی باغ کو تجاوزات سے پاک کر کے بحال کیا جائے گا۔
اندرون لاہور میں ہنرمندوں سے منسوب 36 گلیوں کی بحالی پر بھی رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ داتا دربار کی توسیع کے لیے 18 کنال اراضی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔













