خیبر پختونخوا کے علاقے خیبر سے منسوب ایک ویڈیو کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شدید بحث جاری ہے جس میں مبینہ طور پر کم عمر بچوں کو ہتھیاروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ حکومتی و سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو کسی حقیقی سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی نہیں بلکہ ایک مبینہ طور پر اسٹیجڈ میڈیا اسٹنٹ اور پروپیگنڈا ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف اور غلط تاثر پیدا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز میں محدود جگہ پر شوٹ کیے گئے مناظر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ ریاستی رٹ پر سوال اٹھایا جا سکے، حالانکہ پاکستان کا وسیع رقبہ ہونے کے باوجود چند فٹ کے کلپس کو عالمی سطح پر غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی جیسے عناصر میڈیا تھیٹر کے ذریعے اپنی موجودگی کا تاثر قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ذرائع نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ویڈیو میں مبینہ طور پر بچوں کا استعمال کیا گیا ہے، جو نہ صرف بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ انہیں تشدد اور انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ اس طرح کے اقدامات کو بچوں کے ذہنوں کی برین واشنگ اور انہیں دہشت گردی کے نظریات سے جوڑنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کے کن علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں؟
دوسری جانب یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس واقعے کے حوالے سے مقامی انتظامیہ، صوبائی حکومت اور منتخب نمائندے کہاں ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی ذمہ داری صرف سیکیورٹی اداروں کی نہیں بلکہ سول حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سول اداروں کا فعال کردار بھی ناگزیر ہے، بصورت دیگر ایسے عناصر اپنے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوان نسل کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔













