وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان نہ تو افغانستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی علاقے پر قبضہ چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا واحد جائز مطالبہ یہ ہے کہ افغان زمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
مزید پڑھیں: کرکٹر عماد وسیم کی سابق اہلیہ کی بچوں کے ہمراہ پرستاروں کو عید مبارک
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ جاری آپریشن ’غضب للحق‘ دہشتگرد کمین گاہوں کو ختم کرنے کے لیے ہے اور یہ مسلسل نگرانی کے تحت جاری رہے گا تاکہ دوبارہ ایسی کسی پناہ گاہ کی نشوونما نہ ہو۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم مقام رکھتا ہے اور دنیا بھر میں اسلامی امت میں اتحاد اور امید کی علامت ہے۔ انہوں نے ایران پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسوس کیا، ساتھ ہی کہا کہ پاکستان نے ہر جگہ حق اور سچ کا مؤقف اختیار کیا۔
رانا ثنا اللہ نے ملکی سیاسی ماحول پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ احتجاج اور جلاؤ گھیرے کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں، جو درست نہیں۔ پاکستان میں کسی واقعے پر عالمی سطح پر احتجاج یا املاک کو نقصان پہنچانا قابل قبول نہیں۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ واقعہ پاکستان میں ہوا اور کسی اور مسلمان ملک میں لوگوں نے احتجاجاً املاک کو آگ لگا نا شروع کردی ہو؟
مزید پڑھیں:بلاول بھٹو نے لاڑکانہ میں نماز عید ادا کی، ملکی خوشحالی اور فلسطین کے لیے دعائیں
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی ڈیل کے لیے تیار ہو سکتی ہے لیکن سیاسی عمل یا مذاکرات کے لیے نہیں، اور ملکی مفاد ہر وقت ترجیح ہوگی۔ 2018 میں پروجیکٹ عمران خان کو لانچ نہ کیا جاتا تو اج پاکستان ترقی یافتہ ملک ہوتا۔
رانا ثنا اللہ نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ پورے ملک کے خلاف ہو رہی ہے، اس لیے سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔













