بنگلہ دیشی رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کیس میں گرفتار 2 مرکزی ملزمان کو بھارتی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ایک ملزم نے خود پر عائد الزامات سے انکار کر دیا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو 14 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی کے قتل میں ملوث مشتبہ ملزمان بھارت میں گرفتار
بھارتی ریاست مغربی بنگال کے علاقے نارتھ 24 پرگنہ میں واقع بدھان نگر سب ڈویژنل کورٹ میں گرفتار ملزمان فیصل کریم مسعود المعروف راہول اور عالمگیر حسین کو پیش کیا گیا۔ دونوں کو 8 مارچ کو اسپیشل ٹاسک فورس (STF) نے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب بنگاؤں سے گرفتار کیا تھا۔

عدالت میں پیشی کے دوران ملزم فیصل کریم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یہ کام نہیں کیا، میں اس میں ملوث نہیں ہوں۔ تاہم انہوں نے مزید سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔
پیشی سے قبل دونوں ملزمان کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق دونوں ملزمان غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوئے تھے اور وہاں چھپے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: چیف ایڈوائزر نے شہید عثمان ہادی کے اہلِ خانہ کو فلیٹ کی دستاویزات حوالے کردیں
تحقیقات کے دوران پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر دونوں ملزمان نے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، تاہم عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک ملزم نے الزامات کو مسترد کر دیا۔
واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ کے علاقے پلٹن میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ انہیں بعد ازاں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا جہاں 18 دسمبر کو وہ انتقال کر گئے۔













