۔
۔
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر احمد نگر میں رام نومی کے جلوس کے دوران ایک شخص کی جانب سے مسجد کی طرف تیر چلانے کے واقعے نے مذہبی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے، جس پر مسلم برادری میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اشتعال انگیز واقعہ کیا تھا؟
رپورٹس کے مطابق رام نومی کے جلوس کے دوران ایک ہندو نوجوان نے مبینہ طور پر مسجد کی جانب علامتی طور پر تیر چلایا، جسے ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے سیکولر بھارت کا چہرہ پھر بے نقاب: کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے پر بزرگ مزدور پر بہیمانہ تشدد
یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا اور اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہیں۔
ویڈیو میں کیا دیکھا گیا؟
ویڈیو میں ایک نوجوان کو زعفرانی اسکارف پہنے مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو قریبی مسجد کی جانب تیر چلاتا ہے۔
اس دوران وہاں موجود افراد کی جانب سے نعرے بازی اور خوشی کا اظہار بھی کیا گیا، جس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: زکوۃ جمع کرنے والے 3 مسلمانوں پر ہندوؤں کا تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر ہنگامہ
اس واقعے پر مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور اسے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسے واقعات سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔
وائرل ویڈیوز میں متعدد افراد کی شناخت بھی کی گئی ہے، جن میں وشال، پیوش منوچا، آکاش اتل، سونو دھڈادے اور سوپنل انیل شامل ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی تقریبات کے دوران ذمہ داری اور احتیاط کی کتنی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے اور معاشرتی ہم آہنگی برقرار رہے۔












