درآمدی لگژری اشیا پر بھاری ٹیکس کے باعث قیمتوں میں اضافہ، مارکیٹ میں نیا بحران آ رہا ہے؟

پیر 30 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں درآمد شدہ لگژری اور غیر ضروری اشیا پر ٹیکس اب 60 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے لیے یہ اشیاء کافی مہنگی ہو گئی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام کے مطابق ان اشیا پر درآمد کے وقت کئی طرح کے ٹیکس لگتے ہیں، جن میں 25 فیصد سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی، 5 سے 55 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی، 5 فیصد تک ودہولڈنگ ٹیکس، اور 2 سے 7 فیصد تک اضافی کسٹمز ڈیوٹی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ زیادہ ٹیکس مختلف اشیاء پر لاگو ہوتا ہے، جیسے دودھ سے بنی چیزیں، پراسیسڈ فوڈ، مشروبات، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، گھریلو آلات، اور دیگر غیر ضروری سامان وغیرہ شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

موجودہ نظام کے تحت ان تمام ٹیکسز کو ملا کر کل بوجھ 50 سے 60 فیصد تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ درآمد شدہ لگژری گاڑیوں پر ٹیکس 300 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق درآمدات پر سیلز ٹیکس کی وصولی مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 2,281.9 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سال 1,863.9 ارب روپے تھی، یعنی اس میں 22.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کیا اس پالیسی سے واقعی مقامی انڈسٹری کو فائدہ ہوگا یا مارکیٹ میں مسائل بڑھیں گے؟ اور کیا یہ ٹیکسز معیشت کے لیے طویل مدتی حل ہیں یا صرف وقتی اقدامات ہیں؟

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران کا کہنا تھا کہ درآمد شدہ لگژری اور غیر ضروری اشیاء پر 50 سے 60 فیصد تک ٹیکس عائد کرنا بظاہر ایک درست سمت میں قدم ہے، جس کا مقصد ایک طرف ریاستی آمدن میں اضافہ اور دوسری طرف درآمدات میں کمی لانا ہے۔

ان کے نزدیک جو صارف مہنگی درآمدی اشیاء استعمال کرنا چاہتے ہیں، انہیں اس کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا چاہیے کیونکہ یہ اشیاء بنیادی ضروریات میں شامل نہیں ہوتیں۔

راجہ کامران کے مطابق اس طرح کی ٹیکسیشن مقامی انڈسٹری کے لیے اسی وقت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے جب حکومت ساتھ ساتھ مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ اگر مقامی مصنوعات معیار اور دستیابی کے لحاظ سے بہتر نہ ہوں تو صرف درآمدات کو مہنگا کرنے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہوگا، جس میں مہنگائی میں اضافہ، کم معیار کی اشیا کا استعمال، اور اسمگلنگ جیسے مسائل شامل ہیں۔

راجہ کامران نے مزید بتایا کہ موجودہ ٹیکس نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا زیادہ تر انحصار کنزمپشن ٹیکسز پر ہے، جیسے سیلز ٹیکس، جبکہ انکم ٹیکس کا دائرہ محدود ہے۔ اس کی وجہ سے ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر عام صارفین اور تنخواہ دار طبقے پر پڑتا ہے، جبکہ کاروباری اور غیر رسمی شعبے مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو پاتے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی کے خدشات: اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان

ان کے نزدیک درآمدی اشیا پر بھاری ٹیکس قلیل مدتی طور پر ریونیو بڑھانے اور زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن یہ طویل مدتی حل نہیں ہیں۔ اگر معیشت کو مستحکم کرنا ہے تو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہوگا، زراعت، ریٹیل اور ریئل اسٹیٹ جیسے شعبوں کو مؤثر انداز میں ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہوگا، اور مقامی صنعت کی پیداواری صلاحیت اور معیار کو بہتر بنانا ہوگا۔

ان کا مزہد کہنا تھا کہ صرف ٹیکس بڑھانا کافی نہیں، بلکہ جامع معاشی اصلاحات ضروری ہیں۔ بصورت دیگر مارکیٹ میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے، جیسے غیر رسمی معیشت کا پھیلاؤ، اسمگلنگ میں اضافہ اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، جو معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق درآمد شدہ لگژری اور غیر ضروری اشیا پر 50 سے 60 فیصد تک ٹیکس عائد کرنا ایک وقتی اور جزوی پالیسی ردعمل ہے، جو بنیادی معاشی مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کرتا۔

 ان کے نزدیک حکومت اس طرح کے اقدامات کے ذریعے فوری طور پر درآمدات کو کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹانے اور ریونیو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ حکمت عملی اپنی ساخت میں محدود اور غیر پائیدار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاشی اصول کے مطابق لگژری اشیاء پر زیادہ ٹیکس لگانا درست ہے کیونکہ یہ کھپت کو کم کرتا ہے اور وسائل کو زیادہ ضروری شعبوں کی طرف منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم پاکستان کے تناظر میں مسئلہ یہ ہے کہ ’لگژری‘ اور ’ضروری‘ اشیا کی تعریف عملی طور پر دھندلی ہو چکی ہے۔ بہت سی ایسی درآمدی اشیا جن پر بھاری ٹیکس لگایا جا رہا ہے، وہ یا تو مقامی طور پر معیاری سطح پر دستیاب نہیں ہیں یا پھر ان کا متبادل ہی موجود نہیں۔ نتیجتاً صارفین کو مہنگی اور بعض اوقات کم معیار کی مقامی اشیاء استعمال کرنا پڑتی ہیں، جس سے فلاحی نقصان  پیدا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بڑھتی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، پی ٹی آئی نے حکومت سے بڑے مطالبات کردیے

ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق اس پالیسی کا ایک بڑا غیر ارادی نتیجہ مارکیٹ میں بگاڑ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب ٹیکسز 50 سے 60 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتے ہیں تو اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ اور بلیک مارکیٹ کو فروغ ملتا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی غیر رسمی معیشت کا حجم کافی بڑا ہے، ایسے میں زیادہ ٹیکسز اس غیر دستاویزی سرگرمی کو مزید تقویت دیتے ہیں، جس سے نہ صرف حکومت کا ریونیو متاثر ہوتا ہے بلکہ قانون کی عملداری بھی کمزور پڑتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی انڈسٹری کو صرف ’تحفظ‘ دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اسے ’مسابقتی‘ بھی بنانا ضروری ہے۔ اگر مقامی صنعت کو مسلسل بلند ٹیرف کے ذریعے بچایا جائے لیکن اس کی پیداواری لاگت، ٹیکنالوجی، اور معیار کو بہتر نہ کیا جائے تو وہ عالمی معیار تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صارفین کو مہنگی اور کم معیاری اشیاء ملتی ہیں جبکہ برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو پاتا۔

ڈاکٹر محمد ناصر کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ ٹیکس کی شرح نہیں بلکہ ٹیکس کا دائرہ ہے۔ موجودہ نظام میں زیادہ بوجھ انہی طبقات پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی دستاویزی معیشت کا حصہ ہیں، جیسے تنخواہ دار طبقہ اور رجسٹرڈ کاروبار۔ اس کے برعکس بڑے شعبے جیسے زراعت، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور ریئل اسٹیٹ مؤثر ٹیکسیشن سے بڑی حد تک باہر ہیں۔ اس عدم توازن کی وجہ سے حکومت بار بار آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے بالواسطہ ٹیکسز بڑھا دیتی ہے، جس کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ درآمدی اشیا پر بھاری ٹیکس لگانے سے قلیل مدت میں ریونیو میں اضافہ ضرور ہوتا ہے، جیسا کہ سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ پالیسی معاشی سرگرمی کو سست بھی کر سکتی ہے۔ جب اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو طلب (demand) کم ہوتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں اور بالآخر ٹیکس وصولی کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کمر توڑ مہنگائی، رمضان کے آغاز پر بھی عوام کی جانب سے محدود خریداری

معاشی ماہر ڈاکٹر انور شاہ کا اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ درآمد شدہ لگژری اشیاء پر 50 سے 60 فیصد جبکہ گاڑیوں پر 300 فیصد تک ٹیکس موجودہ حالات میں ایک ضروری پالیسی ہے، جس کا مقصد غیر ضروری درآمدات کو کم کرنا اور ریونیو بڑھانا ہے۔ ان کے نزدیک مارکیٹ کی حقیقت یہ ہے کہ مہنگی اشیاء استعمال کرنے والا طبقہ قیمت بڑھنے کے باوجود کھپت جاری رکھتا ہے، اس لیے زیادہ ٹیکس مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق وہ اس خیال سے اختلاف کرتے ہیں کہ زیادہ ٹیکس لازمی طور پر اسمگلنگ بڑھاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ کمزور نفاذ ہے۔ ان کے مطابق اگر نظام مضبوط ہو تو یہی ٹیکس مقامی صنعت کو موقع دے سکتے ہیں کہ وہ بہتر ہو کر مارکیٹ میں جگہ بنائے۔ ان کے نزدیک یہ پالیسی صرف وقتی نہیں بلکہ درست نفاذ اور دیگر اصلاحات کے ساتھ درمیانی مدت میں بھی فائدہ دے سکتی ہے۔

ریٹیل بزنس سے وابستہ حارث قریشی کا کہنا ہے کہ درآمدی اشیا پر بڑھتے ہوئے ٹیکسز کا فوری اثر قیمتوں اور سیلز دونوں پر پڑے گا۔ ان کے مطابق جب کسی پراڈکٹ کی لینڈنگ کاسٹ پر بیک وقت سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی لگتی ہے تو اس کی قیمت میں 20 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس صورتحال میں صارفین اپنی ترجیحات بدلتے ہیں، جس سے ہائی اینڈ اور امپورٹڈ مصنوعات کی طلب کم ہو جاتی ہے، اور ریٹیلرز کا مارجن بھی دباؤ میں آ جاتا ہے کیونکہ وہ مکمل بوجھ صارف پر منتقل نہیں کر پاتے۔

ان کا مزید کہنا تھا اس پالیسی کا اثر صرف درآمدی اشیا تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ پاکستان میں بہت سی مقامی مصنوعات بھی جزوی طور پر درآمدی خام مال یا پیکجنگ پر انحصار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے اور نتیجتاً مقامی اشیاء بھی 10 فیصد یا اس سے زیادہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ان کے مطابق جب قیمتیں بیک وقت ہر طرف بڑھتی ہیں تو مارکیٹ میں مجموعی طلب کم ہو جاتی ہے، جس سے کاروبار سست پڑ جاتا ہے اور غیر رسمی یا اسمگل شدہ اشیاء کے لیے جگہ بن جاتی ہے، جو ریگولر ریٹیل سیکٹر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان کے خلاف بات کی تو سپورٹ نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر

بنگلہ دیش حکومت کا عوام کو ریلیف، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار

امریکا اب کسی ملک کی مدد کے لیے موجود نہیں ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ برطانیہ اور فرانس پر برس پڑے

ایشین کپ کوالیفائرز: پاکستان کا خود کیخلاف گول، میانمار جیت گیا

راولپنڈی پولیس نے اغوا ہونے والا بچہ خیبرپختونخوا سے بازیاب کرالیا، ملزمان گرفتار

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا