سیکیورٹی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف ایک مبینہ فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، جس کے لیے سرحد عبور کرنے کے بعد گرفتار ہونے والے پاکستانی شہریوں کو استعمال کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کسی بھی کارروائی کا مقصد خطے میں کشیدگی کو بڑھانا اور پاکستان کے خلاف ایک نیا بیانیہ تشکیل دینا ہو سکتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق درجنوں پاکستانی شہری، جن میں کشمیری بھی شامل ہیں، اس وقت بھارت کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور اطلاعات ہیں کہ انہیں ایک منظم منصوبے کے تحت مختلف مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی منتقلی ممکنہ طور پر کسی فالس فلیگ کارروائی کے لیے کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام بھارت کی حالیہ سفارتی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عالمی توجہ کو پاکستان سے ہٹانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو بھی مزید بڑھا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مئی میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے بغیر شواہد پاکستان پر الزام عائد کیا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مختصر فوجی کشیدگی پیدا ہوئی۔ پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بعد ازاں بھارت نے پنجاب اور آزاد کشمیر میں فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھی بھرپور ردعمل دیا اور بھارت کے کئی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد 10 مئی کو امریکی مداخلت سے جنگ بندی ممکن ہوسکی۔
اس سے قبل 14 فروری 2019 کو پلوامہ میں ہونے والے حملے میں 40 سے زائد بھارتی نیم فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا۔
اس واقعے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی تھی جب بھارت نے بالاکوٹ میں حملے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے بے بنیاد قرار دیا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی فضائی افواج آمنے سامنے آئیں، اور پاکستان نے ایک بھارتی طیارہ مار گرایا جبکہ پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا، جنہیں بعد ازاں خیر سگالی کے جذبے کے تحت واپس بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔













