ماہرین کا کہنا ہے کہ غم دراصل محبت کی قیمت ہے جو انسان درد، اداسی، غصے اور ذہنی الجھن کی صورت میں ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بدظنی انسان کو دھوکہ کھانے سے بچالیتی ہے؟
عام طور پر وقت کے ساتھ یہ احساسات کم ہو جاتے ہیں لیکن ہر شخص اس مرحلے سے آسانی سے نہیں گزر پاتا۔
کچھ لوگوں کے لیے اپنے پیاروں کی جدائی کا دکھ وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہو جاتا ہے اور وہ طویل عرصے تک اسی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق جب غم ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو یہ طویل مدتی غم کی بیماری (پرولونگڈ گریف ڈس آرڈر) یا پی جی ڈی میں تبدیل ہو جاتا ہے،جسے سنہ 2022 میں باقاعدہ طور پر ذہنی امراض کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
اس بیماری میں مبتلا افراد کے لیے اپنے نقصان کو قبول کرنا اور زندگی میں آگے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دماغ کا ایک لوپ میں پھنس جانا
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیفیت صرف جذباتی نہیں بلکہ دماغی نظام میں ڈس آرڈر کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اگر آپ کو بھی پڑوس کا شور بہت پریشان کرتا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے ہے؟
نئی تحقیق کے مطابق ایسے افراد کے دماغ کے وہ حصے جو تعلق اور خوشی سے جڑے ہوتے ہیں ایک ’لوپ‘ میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ یہ محسوس کرتا رہتا ہے کہ کھویا ہوا شخص اب بھی موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں حقیقت اور خواہش کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے اور انسان نقصان کو قبول نہیں کر پاتا۔

تحقیقی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بیماری میں مبتلا افراد کے دماغ کے کچھ حصے جیسے کہ امیگڈالا اور اوربٹو فرنٹل کورٹیکس مختلف انداز میں کام کرتے ہیں جس سے جذبات کو سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
کتنے فیصد افراد اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں؟
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 4 فیصد افراد کسی بڑے نقصان کے بعد اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں خصوصاً جب موت اچانک یا پرتشدد ہو۔ یہ کیفیت ڈپریشن، بے چینی، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس اور دیگر جسمانی مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
علاج کے بعد کتنے فیصد افراد بہتر محسوس کرتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق اس بیماری کا علاج عام ادویات سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے خصوصی تھراپی درکار ہوتی ہے جسے پرولونگڈ گریف تھراپی کہا جاتا ہے۔
اس تھراپی میں 16 سیشنز کے ذریعے مریض کو غم کو قبول کرنے، مستقبل کی نئی امید پیدا کرنے اور حقیقت کو سمجھنے میں مدد دی جاتی ہے۔
مزید پرھیں: ’اور کیسے ہیں؟‘ کے علاوہ بھی کچھ سوال جو آپ کو لوگوں کے قریب لاسکتے ہیں!
تحقیق کے مطابق تقریباً 70 فیصد افراد اس طریقہ علاج سے بہتری محسوس کرتے ہیں۔














