سخت بدظنی پر مبنی رویہ انسان کو دھوکہ دہی سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ الٹا سماجی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟
کیا آپ ہمیشہ لوگوں پر شک کرتے ہیں اور انہیں ناقابل اعتماد سمجھتے ہیں؟ حالیہ تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کو منفی نظر سے دیکھنا خود کو دھوکہ دہی سے بچانے کا کوئی جواز نہیں رکھتا اور یہ آپ کی سماجی زندگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
اس کی مثال دیتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں کہ فرض کریں کہ آپ نے کسی نئے جاننے والے سے ملاقات کا وقت طے کیا ہے اور وہ مقررہ وقت پر حاضر نہیں ہوتا۔ آپ انتظار کرتے ہیں پھر بعد میں پتا چلتا ہے کہ ان کے بھائی کا حادثہ ہو گیا تھا۔ اس موقعے پر آپ کیسے ردعمل دیں؟ کیا آپ اس کو شک کا فائدہ دیں گے یا فرض کریں گے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پچھلی 2 دہائیوں میں ماہرین نے یہ تحقیق کی کہ لوگوں کا دوسروں پر اعتماد یا شک کس طرح ان کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انتہائی بدظن لوگ اتنے ہی دھوکے کھا سکتے ہیں جتنا اعتماد کرنے والے لوگ لیکن ان (بدظنی کے مرتکب افراد) کا سماجی دائرہ محدود رہتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا تھوڑی سی خودغرضی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ ماہرین کی دلچسپ رائے
خاموش اشارے ہمیشہ درست ’ٹرانسلیٹ‘ نہیں ہوتے
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کو پہچاننے کے لیے عمومی رویہ کافی نہیں ہوتا۔ ہر شخص کے نان وربل (غیر زبانی) اشارے مختلف ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم دوسروں کے جھوٹ یا سچ کو آسانی سے نہیں پہچان پاتے۔
سائیکولوجسٹ الیسندرا ٹیونیس کے مطابق دھوکہ دہی کی پہچان ان اشاروں پر مبنی ہوتی ہے جو ہمیں چھوٹے چھوٹے سگنلز سے ملتے ہیں جیسے مشکوک ای میل یا غیر معمولی وعدے۔ ان پر توجہ دینے سے ہم اعتماد کے ساتھ معاشرتی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں بغیر یہ سوچے کہ ہر شخص دھوکہ دے گا۔
مزید براں نئے تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جب لوگ دوسروں کی سخاوت اور اچھے اعمال دیکھتے ہیں تو وہ زیادہ احتیاط سے دھوکہ دہی کی علامات پہچان پاتے ہیں۔ اس مثبت جذباتی اثر کو ’ایلیویشن ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے جو لوگوں کو زیادہ سماجی اور محتاط بناتا ہے۔
’اپنی پیشگوئی خود حقیقت بنانا‘
علاوہ ازیں اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں تحقیق کرنے والے ایریک نیومن کے مطابق جب ہم دوسروں پر اعتماد ظاہر کرتے ہیں تو وہ بھی زیادہ ایمانداری اور اچھے رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں جس سے ہمارا مثبت رویہ مزید مستحکم ہوتا ہے۔ جبکہ مسلسل بدظن رویہ دوسروں کو بھی منفی ردعمل پر مجبور کر سکتا ہے۔
نیومن کے تجربات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ اعتماد کا رویہ رکھنے والے افراد زیادہ سخاوت اور گہری بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں جس سے مضبوط سماجی تعلقات قائم ہوتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ نے زندگی میں دھوکہ کھایا ہے یا بدظن ہو گئے ہیں تو اپنے دفاعی رویے کو نرم کر کے اعتماد کی صلاحیت بڑھائیں کیونکہ یہ نہ صرف دھوکہ دہی سے بچنے میں مدد دیتا ہے بلکہ آپ کے تعلقات کو بھی مستحکم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: اگر آپ کو بھی پڑوس کا شور بہت پریشان کرتا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے ہے؟
جیسا کہ نیومن کہتے ہیں کہ آپ سیکھ سکتے ہیں کہ اگر دھوکہ بھی ہوا تو آپ اس سے نمٹ سکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔














