اسپیس ایکس کے اے آئی کے سیٹلائٹس منصوبے کو کیا مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں؟

جمعرات 2 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیس ایکس اپنی مصنوعی ذہانت کی توسیع کے لیے مدار میں ڈیٹا سینٹرز بنانے کی تیاری کررہا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انہی مشکلات کا سامنا کرے گا جن کی وجہ سے مائیکروسافٹ نے اپنے زیرِ آب تحقیقاتی منصوبے کو روک دیا تھا۔

منصوبے کے تحت لاکھوں سیٹلائٹس خلا میں لانچ کر کے مصنوعی ذہانت کے نظام کو زمین سے آزاد کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ توانائی اور پانی کی محدودیت کے مسائل حل کیے جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس اور xAI ایک ہو گئے، ایلون مسک خلا میں اے آئی کا نیا انقلاب لا رہے ہیں؟

مائیکروسافٹ کا پروجیکٹ نیٹک سمندر کی گہرائی میں ڈیٹا سینٹرز بنا کر توانائی کی بچت اور تجدیدی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش تھا۔ اگرچہ یہ تکنیکی طور پر کامیاب رہا، لیکن مارکیٹ میں دلچسپی نہ ہونے اور مالی نتائج خراب ہونے کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا۔

ماہرین کے مطابق اسپیس ایکس کے مدار میں ڈیٹا سینٹرز کو خلا میں ویکیوم کولنگ، تابکاری کے اثرات اور مہنگے لانچ اخراجات جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہوگا۔ زیرِ زمین اور مدار میں موجود ڈیٹا سینٹرز کو مرمت یا اپ گریڈ کرنا مشکل ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کی چپ ٹیکنالوجی تیزی سے بدل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیسلا، ایکس اے آئی اور اسپیس ایکس کا ممکنہ انضمام، کیا تینوں مل کر ٹیکنالوجی کی دنیا بدل دیں گے؟

تخمینہ ہے کہ لاکھوں سیٹلائٹس کی لانچنگ میں کھربوں روپے خرچ ہوں گے، اور لانچنگ کی قیمت میں نمایاں کمی کے بغیر یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مدار میں ڈیٹا سینٹرز زیادہ تر خلا میں انفراسٹرکچر کی مدد کریں گے اور زمین پر موجود سسٹمز کی جگہ نہیں لے سکیں گے۔

نیوڈیا کے چیف ایگزیکٹو نے بھی کہا کہ زمین پر کمپیوٹنگ فی الحال زیادہ عملی اور کم مہنگی ہے۔

مختصر یہ کہ اسپیس ایکس کا یہ مصنوعی ذہانت کا سیٹلائٹس منصوبہ تکنیکی طور پر دلچسپ ضرور ہے، مگر اقتصادی اور عملی مشکلات کی وجہ سے ابھی محدود دائرے تک رہنے کا امکان زیادہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں