امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔
ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے۔ ادارے نے 3 اپریل کو چاند کی ایک دلکش تصویر بھی جاری کی جس کے ساتھ بتایا گیا کہ مشن اپنی منزل کی جانب نصف سفر مکمل کرچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کا آرٹیمس 2 مشن سیدھا چاند کی جانب کیوں نہیں جارہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گے۔ منصوبے کے مطابق خلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔
اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا۔
اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا دوسرا چاند مشن بھی ناکام، ریزیلینس ینڈر چاند پر گر کر تباہ
اگر مشن کامیابی سے مکمل ہوا تو یہ خلا باز انسانی تاریخ میں زمین سے 250000 میل سے زائد فاصلے تک سفر کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کریں گے۔ یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہے۔
مشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔














