ناسا کا آرٹیمس 2 مشن سیدھا چاند کی جانب کیوں نہیں جارہا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

جمعہ 3 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن کی پرواز سیدھے چاند کی طرف جانے کے بجائے مخصوص فگر ایٹ یعنی آٹھ کے ہندسے جیسا راستہ اختیار کرے گی، جس کا مقصد مشن کی حفاظت، ایندھن کی بچت اور مستقبل کی چاند مہمات کے لیے اہم تجربات حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5 دہائیوں بعد انسان دوبارہ چاند کی طرف روانہ، ناسا نے تاریخی آرٹیمس ٹو مشن کامیابی سے لانچ کردیا

ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اوریون خلائی جہاز نے حال ہی میں اپنے سروس ماڈیول کے مرکزی انجن کو تقریباً 6 منٹ تک فعال کیا، جس سے تقریباً 6 ہزار پاؤنڈ تھرسٹ پیدا ہوئی اور خلانوردوں کو چاند کی سمت روانہ ہونے کے لیے مطلوبہ رفتار حاصل ہوئی۔

ماہرین کے مطابق آرٹیمس 2 کا سفر ماضی کے اپالو مشنز کی طرح براہ راست نہیں ہوگا بلکہ یہ تقریباً 10 روز پر مشتمل فری ریٹرن ٹریجیکٹری پر مبنی ہوگا، جس میں خلائی جہاز پہلے زمین کے گرد مخصوص مدار میں گردش کرے گا اور بعد ازاں چاند کے گرد گھومتے ہوئے دوبارہ زمین کی طرف واپس آئے گا۔

ناسا کے مطابق مشن کے آغاز میں خلائی جہاز کو 24 گھنٹے تک زمین کے بیضوی مدار میں رکھا گیا تاکہ حفاظتی جانچ، نظاموں کی کارکردگی اور خلانوردوں کی عملی مشقیں مکمل کی جاسکیں۔ اس دوران عملے نے خلائی جہاز کی دستی کنٹرول مشقیں بھی انجام دیں تاکہ آئندہ چاند پر لینڈنگ مشنز کے لیے ضروری معلومات حاصل کی جاسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کا سائنسدان خلا میں پراسرار طور پر بولنے کی صلاحیت کھو بیٹھا

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں سفر سیدھی اوپر کی سمت نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسا کرنے سے ایندھن کی بڑی مقدار ضائع ہوتی ہے اور کششِ ثقل خلائی جہاز کو دوبارہ زمین کی طرف کھینچ سکتی ہے۔ اسی لیے خلائی جہاز کو تیز رفتاری سے زمین کے گرد گھماتے ہوئے آگے بڑھایا جاتا ہے۔

آرٹیمس 2 مشن چاند کے مدار میں داخل ہونے کے بجائے اس کے دور والے حصے کے گرد فگر ایٹ راستے پر سفر کرے گا، جہاں چاند کی کششِ ثقل کو سلنگ شاٹ کی طرح استعمال کیا جائے گا۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی مرحلے پر انجن کام کرنا بند بھی کر دے تو خلائی جہاز قدرتی طور پر زمین کی طرف واپس آسکے گا۔

ناسا کے مطابق یہ مشن زمین سے 248 ہزار میل سے زائد فاصلے تک پہنچے گا، جو اس مرحلے پر ایک ریکارڈ فاصلہ ہوگا۔ اپالو مشنز چاند کی سطح سے تقریباً 60 سے 70 میل کی بلندی تک گئے تھے، جبکہ آرٹیمس 2 چاند سے 4 ہزار سے 6 ہزار میل کی بلندی سے گزرے گا، جس سے چاند کے دور دراز حصے کا وسیع منظر بھی حاصل ہوگا اور واپسی کا سفر زیادہ محفوظ رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا اور جنوبی کوریا کا مشترکہ ڈیپ اسپیس مشن کیا ہے؟

خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ اس منفرد راستے کے دوران حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کے آرٹیمس سوم اور آرٹیمس چہارم مشنز کی تیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!