وزیراعظم شہباز شریف نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو بڑے پیمانے پر سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور مشکل حالات میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عام آدمی کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح، کفایت شعاری سے بچائی گئی رقم عوام پر خرچ کی جائےگی، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایندھن کے ذخائر، کھپت اور عوامی ریلیف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ملک میں ضروریات پوری کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ 3 ہفتوں کے دوران حکومت نے 129 ارب روپے کا بڑا ریلیف پیکج فراہم کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پیٹرول لیوی میں فوری طور پر 80 روپے فی لیٹر کمی کر کے عوام کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ مشکل وقت میں مزید سہولتیں دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مسافر بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے، منی بس اور ویگنوں کیلئے 40 ہزار روپے، مال بردار گاڑیوں کیلئے 80 ہزار اور ڈیلیوری وینز کیلئے 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نظام میں کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں:خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت، وزیراعظم نے عوام کو مشکلات سے بچانے کا عزم کر رکھا ہے، عطااللہ تارڑ
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ریلوے بھی 6 ارب روپے کی سبسڈی دے رہا ہے اور مسافر و مال گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹال ٹیکس میں سہ ماہی 25 فیصد اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کی جانب سے قومی پیکج کے لیے طے شدہ رقم جمع کرانے کو سراہتے ہوئے دیگر صوبوں سے بھی جلد از جلد تعاون کی اپیل کی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت متعدد وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں عوامی ریلیف اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔














